ویڈیو :شادی نہ ہونے پر 45 سالہ شخص کا بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر انوکھا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: مطالبات بینرز پر لکھے جاتے ہیں اور کبھی نعروں میں گونجتے ہیں مگر سندھ کے شہر بھٹ شاہ میں ایک شخص نے اپنے مطالبے کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہے۔
شادی کی خواہش لیے 45 سالہ شخص بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور یوں اس کا احتجاج پورے شہر کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
سوشل میڈیا صارفین اس پر دلچسپ تبصرے کرتے نظر آئے۔
مسلمان کھلاڑی کی نیوزی لینڈ دورہ سے قبل طوفانی سینچری،بھارتی سلیکٹرز کو کھلا پیغام
سندھ کے شہر بِھٹ شاہ میں انوکھا اور دلچسپ واقعہ، 45 سالہ شخص اپنی شادی کروانے کا مطالبہ لے کر بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور تاریں پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔!! pic.
کسی نے لکھا کہ 2026 کا پہلا انوکھا احتجاج سامنے آ گیا ہے تو کوئی یہ کہتا نظر آیا کہ شادی کے کچھ دن بعد بھی یہ شخص یہیں بیٹھا ہوگا۔
کئی صارفین کہتے نظر آئے کہ یہ شخص 45 سال کا نہیں بلکہ 65 سال کا لگ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔