صبا قمر کا نئے ڈرامے میں انتہائی بولڈ انداز، صارفین نے آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پاکستان کی نامور و اسٹائلش اداکارہ صبا قمر کو مشکل اور سنجیدہ کرداروں کو باکمال انداز میں نبھانے پر خاصی پذیرائی ملتی ہے۔
پانی جیسا پیار، باغی، بےشرم، چیخ، ڈائجسٹ رائٹر، سنگت، فراڈ، سرِ راہ، تمہارے حسن کے نام اور دیگر کئی مقبول ڈراموں میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔
ان دنوں وہ ’کیس نمبر 9‘ اور ’پامال‘ میں اپنی مضبوط پرفارمنس کے باعث خبروں میں ہیں، جبکہ نئے ڈرامے ’معمہ‘ میں ان کے کردار کو بھی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
تاہم ’معمہ‘ میں صبا قمر کے انتہائی بولڈ لباس کے انداز پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
اس کے علاوہ ان کا ایک بولڈ فوٹو شوٹ بھی وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے جدید طرز کا فِٹڈ گاؤن زیب تن کیا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس اندازِ لباس پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے، جن میں کچھ نے اسے پاکستانی ڈراموں کے خاندانی مزاج کے خلاف قرار دیا، جبکہ بعض نے نشریاتی اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹی پر سوالات اٹھائے۔
کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اداکاروں کو ٹی وی اسکرین پر لباس کے انتخاب میں وقار اور حدود کا خیال رکھنا چاہیے، جبکہ کچھ نے ذاتی زندگی اور آن اسکرین پیشکش کے فرق پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔