اسلام آباد:(نیوزڈیسک) سال نو 2026 کے موقع پر صدر ِمملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دعا ہے آنے والا سال غصے کی بجائے تحمل، تقسیم کی بجائے اتحاد اور مایوسی کی بجائے امید کی تجدید کا سال ہو۔ صدر مملکت نے پاکستان کے عوام، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا پیغام دیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ نئے سال میں ہمیں اجتماعی طور پر پاکستان کے مشترکہ مستقبل کے نگہبان ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی تجدید کرنا ہوگی۔ ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو جنگوں اور تنازعات، پراکسی جنگوں، انتہاءپسندی، زینوفوبیا، عوامی جذبات پر مبنی فسطائیت، آبادی میں بے قابو اضافے، معاشی بے یقینی، ماحولیاتی ہنگامی صورتحال، خوراک اور پانی کے عدم تحفظ، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور شدید سماجی تقسیم سے عبارت ہے، اور بھی پاکستان ان چیلنجز سے محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ ان مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ عالمی منظرنامہ افراطِ زر، سپلائی چین میں رکاوٹوں، قرضوں کے دباؤ، تجارتی جنگوں اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر مسابقت سے تشکیل پا رہا ہے۔ تعلیم، صحت، نوجوانوں، تخلیقی شعبوں، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہماری بقا ءاور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے ہر قسم کی انتہاء پسندی کو مسترد کرنے اور تشدد کی ہر صورت سے لاتعلقی اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواہ تشدد مذہبی، نسلی، سیاسی، نظریاتی، مسلح، فرقہ وارانہ یا ڈیجیٹل ہو، اسے مکمل طور پر رد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اختلافِ رائے میں پنپتی ہے اور تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کی بہتری کے لیے پارلیمان میں تعمیری کردار ادا کریں۔ کوئی بھی دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہو، کیونکہ دشمن پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کی سرپرستی کے درپے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ وفاق کی وحدت کی علامت کے طور پر وہ قومی مفاہمت اور مصالحت کے عمل کی قیادت کے لیے تیار ہیں تاکہ فاصلے کم کیے جائیں، اعتماد بحال ہو اور تمام جمہوری قوتوں کو آئینی راستے پر واپس لایا جائے۔ پاکستان کو محاذ آرائی نہیں بلکہ تعاون کی ضرورت ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سال کے اوائل میں پاکستان کو ایک سنگین سلامتی کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، تاہم عوام کے اتحاد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نے ملکی خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط اور قابلِ بھروسہ ہے، ہم امن کے خواہاں ہیں مگر اسے کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور کسی بھی خطرے کا جواب بھرپور قومی عزم اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی طاقت سے دیا جائے گا۔

صدر مملکت نے بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو بین الاقوامی معاہدوں اور قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کو تمام ممکنہ فورمز پر اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن، امن کے داعی اور استحکام کے ضامن کے طور پر دوطرفہ اور کثیرالجہتی روابط کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور بشمول کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو بین الاقوامی وعدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کے ڈی فیکٹو حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صدی کی دوسری چوتھائی کے آغاز پر پاکستان یوکرین، روس جنگ سمیت تمام عالمی تنازعات کے خاتمے کی امید رکھتا ہے۔ صدر مملکت نے فلسطینی عوام کے ساتھ غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: صدر ا صف علی زرداری نے انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے پاکستان کے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش