بی جے پی رہنما نے شاہ رخ خان کو ’غدار‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
بھارتیہ جنتا پارٹی کے متنازع اور انتہا پسند رہنما سنگیت سوم نے بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں ’غدار‘ قرار دے دیا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب شاہ رخ خان کی ملکیت آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔
اُتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن سنگیت سوم نے میرٹھ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ رخ خان نے بنگلادیشی کھلاڑی کو خرید کر ملک سے غداری کی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک طرف بنگلادیش میں ہندوؤں پر تشدد کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور دوسری جانب بھارتی لیگ میں وہاں کے کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے دے کر خریدا جارہا ہے۔
سنگیت سوم نے الزام لگایا کہ شاہ رخ خان نے مستفیض الرحمٰن کو آئی پی ایل 2026 کی نیلامی کے دوران تقریباً 9 کروڑ روپے میں خریدا، جو ان کے بقول ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ایسے لوگوں کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے جو ملک کے جذبات کے خلاف فیصلے کریں۔
بی جے پی رہنما نے شاہ رخ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو مقام اور دولت حاصل کی ہے وہ اسی ملک کی بدولت ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جنہیں وہ ملک سے غداری کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق دولت کمائی جا رہی ہے بھارت سے، مگر فائدہ ایسے لوگوں کو دیا جا رہا ہے جن پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سنگیت سوم نے مزید سخت بیان دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر مستفیض الرحمٰن جیسے کھلاڑی، جنہیں 16 دسمبر کو ہونے والی آئی پی ایل 2026 کی نیلامی میں 9.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سنگیت سوم نے شاہ رخ خان
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔