سال نو کے پہلے روز پنجاب حکومت نے 9 سرکاری محکمے ختم کردیے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پنجاب حکومت نے سال نو کے پہلے روز بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 9 سرکاری محکمے ختم کردیے جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب حکومت نے 9 سرکاری محکمے ختم کر کے انہیں محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پرٹیکشن میں ضم کردیا۔
سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق مذکورہ ادارے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کے ماتحت کام کریں گے اور یہ محکمہ فوری طور پر فعال ہوگا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق تمام ضم شدہ اداروں کا ایک سیکرٹری ایک ڈی جی ہوگا۔
مزید پڑھیںدورہ لاہور میں پنجاب حکومت کا نامناسب رویہ، سہیل آفریدی کا مریم نواز کو خط
پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ تعلیم کےلئے ریکارڈ فنڈ مختص کیے، بجٹ 46 ارب روپے کر دیا گیا، ملک احمد خان
پنجاب حکومت کی مہمان نوازی سب نے دیکھ لی جہاں سہیل آفریدی کی آمد پر رکاوٹیں لگادی گئیں، کے پی حکومت
جن اداروں کو فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن میں ضم کیا گیا ہے اُن میں انفورسمنٹ پرائس اینڈ کنٹرول، فوڈ کین کمشنر، ایگریکلچر اکنامک مارکیٹنگ، انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر مارکیٹنگ، کنزیومر پروٹیکشن کونسل، پنجاب سہولت بازار اتھارٹی، پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی ،پنجاب فوڈ اتھارٹی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ محکموں کا اختتام بچت پروگرام کے تحت کیا گیا جس میں موجود اضافی افسران کو تبدیل بھی کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت نے کے مطابق
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔