موسیٰ خیل آگ پر چلانیوالے اصل مجرمان آزاد ہیں، متاثرین کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرین کا کہنا تھا کہ پولیس تحقیقات میں لاپرواہی کر رہی ہے، اصل مجرمان کے بجائے دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں آگ پر چلنے کے واقعہ کے متاثرین کا کہنا ہے کہ اصل مجرمان کو چھوڑ کر دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث اصل بااثر شخصیت کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کی جائے۔ آج کوئٹہ پریس کلب میں موسیٰ خیل میں آگ پر چلنے کے واقعہ کے متاثرین نے پریس کانفرنس کی۔ جس میں متاثرین نے دعویٰ کیا کہ مقامی تنازعے کے دوران آٹھ افراد کو آگ پر چلنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ اصل ذمہ داران کو کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ واقعے کے خلاف ایک ایف آئی آر معصوم افراد کے خلاف درج کی گئی، جبکہ اصل مجرم کیس سے باہر رہے۔
انہوں نے اس واقعے کو دباؤ اور دھمکی دینے کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے متعلقہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور پولیس پر تفتیش میں لاپرواہی کے الزامات عائد کئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ موسیٰ خیل سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اپنی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے متعدد افراد کو آگ پر چلنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی ہدایت دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آگ پر چلنے افراد کو کیا گیا
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔