2025 بھارت کے لیے ناکامیوں اور مسائل کا سال رہا، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
فنانشل ٹائمز کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 بھارت کے لیے استحکام یا مضبوط ترقی کا نہیں بلکہ ناکامیوں اور مسائل کا سال ثابت ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت پورے سال دباؤ میں رہا، جس کی بنیادی وجوہات پاکستان بھارت فوجی کشیدگی، امریکا کے ساتھ تجارتی تنازعات، ایک مہلک ہوائی حادثہ، کرنسی کی کمزوری اور بڑھتی ہوئی اقتصادی غیر یقینی صورتحال تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ
فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری میں ناکامی کی وجہ سے اسے بیک وقت امریکا، چین اور روس کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے پر مجبور ہونا پڑا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا بھارت تجارتی معاہدے کو کئی بار مؤخر کیا گیا، جبکہ امریکی محصولات (ٹیکس) نے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ ڈال دیا۔ اسی طرح، جی ایس ٹی اصلاحات کے محدود نفاذ نے بھی اقتصادی ترقی کو متاثر کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سال 2025 میں بھارتی روپیہ مسلسل امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتا رہا۔
یہ بھی پڑھیے: معاشی اعتماد اور امن کی امید میں پاکستان بھارت پر سبقت لے گیا، عالمی سروے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان-بھارت کشیدگی کے طویل مدتی نتائج بھارتی فوجی بالادستی کی صورت میں نہیں بلکہ واشنگٹن کی پالیسی میں واضح تبدیلی کے طور پر سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کے کریڈٹ لینے اور پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ بڑھتے ہوئے رابطے بھارت کے لیے سفارتی ناکامی کی علامت ہیں۔
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ بھارت کی اقتصادی اور سفارتی حیثیت امریکا میں نمایاں طور پر کمزور ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روپیہ کی مزید کمزوری اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھارت کے اقتصادی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاک بھارت جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ، یمن میں امن پر زور،ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا بھارت تجارتی معاہدے کی ناکامی بھارت کی عالمی اقتصادی ساکھ میں خلا کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2025 میں بھارت نے مسائل کا سامنا تو کیا لیکن انہیں حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ داخلی کمزوریوں، علاقائی کشیدگیوں اور عالمی دباؤ کے تناظر میں سال 2026 بھارت کے لیے مزید بڑے چیلنجز کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا بھارت فنانشل ٹائمز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بھارت فنانشل ٹائمز فنانشل ٹائمز بھارت کے لیے رپورٹ میں یہ بھی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔