جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی کی مدت ملازمت میں مزید چار سال کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
کراچی:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن کی شاندار خدمات کے اعتراف میں ان کی مدت ملازمت میں مزید چار سال کی توسیع کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پروفیسر امجد سراج میمن کے پہلے 4 سالہ دور میں 2 ہزار سے زائد طالب علموں نے ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس سمیت دیگر مختلف پروگرامز میں تعلیم مکمل کی جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے 10 نئے ایچ ڈی پروگرامز کی اجازت ملی ان میں فارماسیوٹیکل سائنسز بھی شامل ہیں۔
ان کے دور میں فارماسیوٹیکل سائنسز کے 5 پی ایچ ڈی، بائیو کیمسٹری بزنس مینجمنٹ سائنسس سمیت درجن بھر ایم فل پروگرامز کی بھی اجازت ملی جس کے بعد یونیورسٹی میں بتدریج داخلے بھی شروع کردئیے گئے۔
پروفیسر امجد سراج میمن کے دور میں حال ہی میں پہلی بار آٹزم سینٹر بھی قائم کیاگیا۔ جناح یونیورسٹی کے 2 کیمپس میڈیکل ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ لانڈھی جبکہ اور کلثوم بائی ولیکا نرسنگ میں انسٹی ٹیوٹ کا اضافہ کیا گیا۔
ترجمان جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ قومی ادارہ برائے اطفال میں ایک بڑی نئی عمارت بھی تعمیر کی جارہی ہے جہاں آٹزم سینٹر تمام طبی سہولتوں سے آراستہ ہوگا۔ ترجمان نے بتایا کہ جناح اسپتال میں متعدد یونٹس غیر فعال تھے ان یونٹوں کو مکمل فعال کرنے کے لیے فیکلٹی مکمل کرلی گئی ہے۔
اس حوالے جناح یونیورسٹی نے جناح اسپتال کے ساتھ ایک باہمی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کے تحت یونیورسٹی نے جناح اسپتال کو فیکلٹی فراہم کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے