کینیڈا؛ ایئر انڈیا کے پائلٹ کو نشے کی حالت میں پرواز سے اُتار دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
کینیڈا کے شہر وینکوور میں ایئر انڈیا کی ایک بین الاقوامی پرواز اس وقت تاخیر کا شکار ہو گئی جب ٹیک آف سے قبل ایک پائلٹ کو نشے کی حالت میں ہونے کے شبے میں طیارے سے اتار دیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جب ایئر انڈیا کی پرواز AI186 روانگی کی تیاری کر رہی تھی۔ ایئرپورٹ پر موجود عملے کے ایک رکن نے پائلٹ کو شراب خریدتے ہوئے دیکھا۔
عملے کے رکن نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی اور اطلاع ملنے پر کینیڈین حکام نے پائلٹ کا معائنہ کیا۔
پائلٹ سے شراب کی بُو محسوس ہونے پر اس کا بریَتھ اینالائزر ٹیسٹ کیا گیا جس میں وہ مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتر سکا۔
حکام نے صورتحال کو مسافروں کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پائلٹ کو مزید تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا۔
ایئر انڈیا کے ترجمان نے بتایا کہ ایئرلائن کے حفاظتی ضوابط کے مطابق فوری طور پر متبادل پائلٹ کا انتظام کیا تاہم نئے پائلٹ کی تعیناتی میں وقت لگنے کے باعث پرواز تاخیر سے روانہ ہوئی۔
ترجمان کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ان کے نتائج سامنے آنے تک مذکورہ پائلٹ کو عارضی طور پر ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔
ایئر انڈیا نے اس بات پر زور دیا کہ مسافروں کی حفاظت ایئرلائن کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئر انڈیا پائلٹ کو
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔