حکومتی سرپرستی میں بسنت تہوار بنانا قابل مذمت ہے، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-05-4
لاہور( وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے ڈاکٹر بابر رشید،ذکر اللہ مجاہد،فاروق چوہان اور عمران الحق کے ہمراہ منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں 18 سال بعد 6، 7 اور 8 فروری کو حکومت پنجاب کی سرپرستی کو بسنت منانے کا اعلان تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ بسنت معاشرتی اقدار کے منافی ہے، اس پر پابندی ختم کرنا درحقیقت انسانی جانوں سے کھیلنے، قومی وسائل اور اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ بسنت منانے کی اجازت کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔اگر بسنت کے نتیجے میں ڈور پھرنے سے اموات ہوں گی تو اس کی ذمہ دار وزیر اعلیٰ پنجاب ہوں گی۔بسنت کو ثقافت کے نام پر دوبارہ زندہ کرنا درست اقدام نہیں۔حکومت یاد رکھے کہ اگر 6 تا 8 فروری کے دوران بسنت کے باعث کوئی بھی جانی یا مالی نقصان ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر عائد ہو گی۔اگر حکومت بسنت منانے ہی چاہتی ہے تو اس کو شہر سے باہر کوئی جگہ مختص کرکے منایا جائے۔شہر کے اندر اس خونی کھیل کو منانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ ڈی سی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے ذریعہ تین دن بسنت منانے کی اجازت قابل مذمت ہے،ماضی میں پتنگ بازی سے کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق 2004 میں لاہور میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے دوران ہونے والے حادثات میں 13 افراد کی اموات ہوئی تھیں اور 400 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں گلے پر ڈور پھرنے سے دو سالہ معصوم بچی زینب فاطمہ اور 22 سالہ نوجوان محمد اویس کے زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔ یہ حکومتی غفلت اور بسنت کی اجازت دینے کا پہلا نتیجہ ہے۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ماضی میں بھی بسنت کے مواقعوں پر ایسے جان لیوا حادثات رونما ہوتے رہے ہیں۔ پتنگ بازی کے اس تہوار کے دوران استعمال ہونے والی کیمیائی اور دھاتی ڈور (قاتل ڈور) نے بسنت کو تفریح کے بجائے ایک سنگین سماجی مسئلہ بنا دیا ہے۔انہوں نے کاشتکاروں کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ خاص طور پر زراعت اور کسان کا جس بے دردی سے استحصال کیا گیا،اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ سیلاب،موسمیاتی تبدیلیاں اور ظالمانہ حکومتی پالیسیوں نے پنجاب کے کاشتکاروں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے شعبہ زراعت جو کہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا ہے۔جماعت اسلامی پنجاب کے رہنما نے کہا کہ آلو، گنے، کپاس، گندم اور دیگر فصلیں حکمرانوں کی عدم توجہی کے باعث اپنی لاگت بھی پوری نہیں کر پاتیں جس کی وجہ سے کسان شدید معاشی بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی زرعی مداخل کی قیمتیں، مہنگی کھادیں، بجلی کے ہوشربا بلز نے کسانوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پنجاب حکومت کے اقدامات دوہرے طرز عمل کی واضح مثال ہیں۔ایک طرف ہیلمٹ پہننے پر سختی کر رہی ہے تو دوسری طرف بسنت جیسے خونی کھیل کا اعلان کرکے عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔