data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون نے کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی میں ہونے والے بلڈرزمافیا کی جانب سے کرائی گئی جعل سازیوں کو ختم کرنے کیلئے مختیار کارسٹی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کو دباکربلڈرکو سیل سرٹیفیکٹ جاری کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا،مبینہ طور پر کی گئی چالیس لاکھ روپے کی سودے بازی میں اے ڈی سی ون کے ریڈرنے اہم کرداراداکیاہے،مختیارکارسٹی اور اسسٹنٹ کمشنر پر بلڈرزمافیا کو سیل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے دباؤکے ساتھ ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،تفصیلات کے مطابق مختیارکارسٹی نے پھلیلی نہر لیاقت کالونی سے متصل ایک ایکٹرسے زائد سرکاری اراضی(بھڈا،موھاگالینڈ) میں کئے گئے تمام داخلوں، انٹریوں کو بوگس اورجعلی قراردیتے ہوئے ختم کرکے مزید کاروائی کیلئے ریفرنس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون کو بھیجادیا،مگرتین ماہ سے زائدگزرنے کے باوجودریفرنس مزید کاروائی کیلئے کمشنر حیدرآباد ڈویژن کو نہیں بھیجااورمذکورہ ریفرنس کو دباکر بلڈرزمافیا کو سیل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم نامہ جاری کردیاہے،ذرائع کے مطابق ایک ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی ٹھکانے لگانے لئے مبینہ طورپر 40لاکھ روپے کی سودے بازی کی گئی ہے جس میں اہم کردار اے ڈی سی ون کے ریڈرنے اداکیاہے،مختیار کارسٹی جوادپاٹولی نے بھیجے گئے ریفرنس میں بتایا ہے کہ محمد شریف نامی شخص نے سروے نمبر4851جس کی اراضی 3710-06اسکوائر گز ہے اس کا سیل سرٹیفیکٹ جاری کرنے کیلئے انہیں درخواست دی ہے جس کے ریکارڈ کی چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ مذکورہ اراضی کی تمام انٹریاں عدالتی حکم پرپہلے ہی ختم کی جاچکی ہے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار