Express News:
2026-07-24@05:48:35 GMT

اسلام ;  امن کا داعی  سلامتی کا دین انسانیت کا محافظ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

موہن داس کرم چند گاندھی

’’اسلام اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں تعصب اور ہٹ دھرمی سے پاک تھا، دنیا سے خراج تحسین وصول کیا۔ جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہُوا۔ ایک روشن ستارہ، جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہوگئے۔ اسلام دینِ باطل نہیں ہے۔ ہندوؤں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے

تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام بہ زورِ شمشیر نہیں پھیلا۔ بل کہ اس کی اشاعت کا ذمہ دار رسولِ عربی ﷺ کا ایمان، ایقان، ایثار اور اوصافِ حمیدہ تھے۔ ان صفات نے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیا تھا۔ یورپی اقوام جنوبی افریقا میں اسلام کو سرعت کے ساتھ پھیلتا دیکھ کر خوف زدہ ہیں۔ اسلام جس نے اندلس کو مہذب بنایا۔ اسلام جو مشعلِ ہدایت کو مراکو تک لے گیا۔ اسلام جس نے اخوت کا درس دیا۔ جنوبی افریقا میں یورپی اقوام محض اس لیے ہراساں ہیں کہ وہ جانتی ہیں کہ اگر اصلی باشندوں نے اسلام قبول کر لیا تب وہ ہم سرانہ حقوق کا مطالبہ کریں گے اور لڑیں گے۔ اگر اخوت گناہ ہے تو ان کا خوف راستی پر مبنی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے زُولو، عیسائیت قبول کرنے پر بھی عیسائی حقوق حاصل نہیں کر سکتا، لیکن جوں ہی وہ حلقہ بہ گوش اسلام ہُوا، مسلمانوں کے ساتھ اس کا رابطہ اتحاد پیدا ہوگیا۔ یورپ اس اتحادِ اسلام سے خائف ہے۔‘‘

سادھوئی ایل وسوانی

میں حضرت محمد ﷺ کی کورنش بجا لاتا ہوں۔ وہ دنیا کی ایک عظیم الشان شخصیت ہے۔ وہ ایک قوت تھی جو انسانیت کی بہتری کے لیے صرف ہوئی۔ ان ایام کی داستانوں کا مطالعہ کرو تاکہ تمہیں اس کی شوکت و سطوت کا پتا چلے۔ بادشاہ اور روحانی راہ بر ہوتے ہوئے وہ اپنی گلیم کو خود پیوند لگاتا۔ وہ غیب کی آواز پر لبیک کہتا: ’’اے کملی والے! اٹھ اور تبلیغ کر۔‘‘ لوگوں نے انہیں ایذا دی، ان کی زندگی خطرہ میں پڑگئی لیکن انھوں نے اپنے فرائض کی ادائی میں کبھی کوتاہی نہ کی۔ وہ امن و راستی کی تلقین کرتے رہے۔ محمد (ﷺ) پیغمبر اور راہ بر تھے اور میں ان کے آخری الفاظ پر اکثر غور و خوض کرتا ہوں: ’’مالک! مجھے بخش دے اور مجھے اپنے نیک بندوں میں اٹھا۔‘‘ تم میں سے کون ہے جو اس امر کا انکار کرے کہ وہ اعلیٰ زندگی اور اعلیٰ موت رکھتے تھے۔

بلبل ہندوستان سروجنی نائیڈو

اس پاک انسان نے اپنے آپ کو معبودیت اور پرستش کا محل قرار نہیں دیا۔ اس کو انسان کی طاقت اور کم زوری کا پورا علم تھا۔ وہ بنی نوع انسان کے اندر تھا۔ لوگوں کے ساتھ بولتا، ان ہی کے ساتھ چلتا پھرتا اور کام کرتا تھا۔ وہ خود بھی انسان تھا۔ اپنے رات دن کے عملی نمونوں سے اس مقدس انسان نے یہ شان دار سبق اپنے پیروؤں کو سکھلایا کہ زبان سے جو کچھ کہتا ہے اور جس بات کی تلقین کرتا ہے اس پر خود بھی عمل پیرا ہونا ضروری اور اس کے حدِ امکان کے اندر ہے۔ وہ خدا ہو کر دنیا میں نہیں آیا بلکہ انسان ہو کر اور انسانوں ہی کی طرف آیا ہے۔ وہ پاک انسان نفرت سے بھرپور، بغض و تعصب سے مخمور اور جہالت سے معمور دنیا کی طرف آیا اور اس صحرا کے اندر جو اس کی پیدائش کا گہوارہ تھا۔

ایک نہ مٹنے والی صداقت کا اس پر انکشاف ہوا۔ جو رب العالمین کے دو پاکیزہ الفاظ میں مضمر ہے۔ یعنی اس خدا کو آپ نے پیش کیا جو تمام اقوام و ممالک اور تمام مذاہب کا ایک ہی خدا ہے۔ اسلام میں حقیقی اور خالص جمہوریت کا رنگ پایا جاتا ہے جو اپنی اعلیٰ شان و شوکت کے لحاظ سے ہمارے زمانے کی نام نہاد جمہوریت سے بہ درجہا اعلیٰ تر ہے۔ یہ وہ رنگ ہے جس کو اعلیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کو نہ مذہب عیسوی پیدا کر سکا نہ میرا مذہب ہی۔ جو تاریخ عالم میں بہت پرانا ہے اس کی تخلیق کا موجب ہوا بلکہ وہ محمد ﷺ کی پاک مساعی کا نتیجا ہے۔

مایہ ناز مصنف، سوامی لکشمن پرشاد

جہالت اور ضلالت کے مرکزِ اعظم جزیرہ نمائے عرب کے کوہِ فاران کی چوٹیوں سے ایک نور چمکا، جس نے دنیا کی حالت کو یک سر بدل دیا۔ گوشے گوشے کو نورِ ہدایت سے جگ مگا دیا اور ذرے ذرے کو فروغِ تابشِِ حُسن سے غیرتِ خورشید بنا دیا۔ آج سے چودہ صدیاں پیشتر اسی گم راہ ملک کے شہر مکہ مکرمہ کی گلیوں سے ایک انقلاب آفرین صدا اٹھی جس نے ظلم و ستم کی فضاؤں میں تہلکہ مچا دیا۔ یہیں سے ہدایت کا وہ چشمہ پھوٹا جس نے اقلیمِ قلوب کی مرجھائی ہوئی کھیتیاں سرسبز و شاداب کر دیں۔ اسی ریگستانی چمنستان میں روحانیت کا وہ پھول کھلا جس کی روح پرور مہک نے دہریت کی دماغ سوز بُو سے گھرے ہوئے انسانوں کے مسامِ جان کو معطر و معنبر کر دیا۔ اسی بے برگ و گیاہ صحرا کے تیرہ و تار افق سے ضلالت و جہالت کی شبِ دیجور میں صداقت و حقانیت کا وہ ماہ تابِ درخشاں طلوع ہُوا جس نے جہالت و باطل کی تاریکیوں کو دور کر کے ذرے ذرے کو اپنی ایمان پاش روشنی سے جگ مگا کر رشکِ طور بنا دیا۔ گویا ایک دفعہ پھر خزان کی جگہ سعادت کی بہار آگئی۔ (مولف: عرب کا چاند)

سردار دیوان سنگھ مفتوں ایدیٹر ’’ریاست‘‘

ایک روز مولوی صاحب نے مجھے رسول اﷲ (ﷺ) کی وہ حدیث سنائی جس میں پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے: ’’سلطان جابر کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے۔‘‘ میں نے جب یہ حدیث سنی تو میں نے غور کیا کہ اس شخصیت کی بلندی کا کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے جس نے حاکمِ وقت کے سامنے حق و صداقت کی آواز کو دنیا میں سب سے بڑا جہاد قرار دیا ہو۔ ان ہونٹوں کی قدر و قیمت کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا جن ہونٹوں سے اس حدیث کے الفاظ نکلے۔

پنڈت گوپال کرشن بی اے ایڈیٹر ’’بھارت سماچار‘‘ ممبئی

’’رشی محمد صاحب (ﷺ) کی زندگی پر جب ہم وچار کرتے ہیں تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ ایشور نے ان کو سنسار سدھارنے کے لیے بھیجا تھا۔ ان کے اندر وہ شکتی موجود تھی جو ایک گریٹ ریفارمر (مصلح اعظم) اور ایک مہا پُرش (عظیم ترین ہستی) میں ہونی چاہیے۔ آپ (ﷺ) نے عرب کے چرواہوں کو جو ظلم و ستم کے عادی تھے۔ انسانِ کامل بنا دیا اور ان کے اندر رحم و کرم، حلم و تواضع پیدا کر دی۔ ان میں مترما (مودت) اور پریم (محبت) کے جذبات پیدا کر دیے یہ لوگ جاہل اور وحشی تھے۔ پرنتو (مگر) چند ہی روز میں ان کو حکم رانوں کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا دیا۔ وہ اپنے بھائیوں کا خون بہانا ایک معمولی بات سمجھتے تھے مگر حضرت محمد صاحب (ﷺ) کی تعلیم سے ایسے دیالو (سخی) ہوگئے کہ دنیا کی کھوئی ہوئی سلامتی اور اس کا امن دوبارہ قائم ہوگیا اور خود بھی شانتی (امن) کے محافظ بن گئے۔‘‘

ایچ، جی، ویلز

’’اگر انسان میں خوبیاں نہ ہوں تو وہ کس طرح اپنے دوستوں کے دل میں گھر کر سکتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام (ﷺ) کی صداقت کا یہی بڑا ثبوت ہے کہ جو آپؐ کو سب سے زیادہ جانتے تھے۔ وہی آپؐ پر سب سے پہلے ایمان لائے۔ حضرت خدیجہؓ سے بڑھ کر آپ کو زیادہ کون جانتا ہوگا۔ وہی سب سے پہلے ایمان لائیں۔ حضرت خدیجہؓ تو خیر آپ (ﷺ) کی رفیقہ حیات تھیں۔ حضرت ابوبکرؓ سب سے بڑی شہادت ہیں جو ساری زندگی پیغمبرِ اسلامؐ کے فدا کاروں میں شامل رہے۔ حضرت ابوبکرؓ جیسے جاں نثار کا آپ پر ایمان لانا پیغمبر اسلام کی صداقت کا بہترین ثبوت ہے کہ آپ نے سب کچھ حضرت محمد ﷺ کے لیے قربان کر دیا۔ پھر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر آپؐ کی صداقت کا ثبوت پیش کیا۔‘‘

باس ورتھ سمتھ

’’میں اس بات کو دیکھ کر حیران ہوں کہ حضرت محمد (ﷺ) کی ساری سیرت اور زندگی میں یک سانی کا رنگ پایا جاتا ہے۔ ایسا کسی مرحلہ پر نظر نہیں آتا کہ پیغمبرِ اسلامؐ نے حالات اور واقعات کے بدل جانے سے اپنے خصوصی کردار کو تبدیل کر دیا ہو۔ صحرا کے ایک گلہ بان اور چرواہے کی حیثیت سے، غارِ حرا کی تنہائیوں میں ایک مصلح اور معلمِ اخلاق کی حیثیت سے، مدینے کی ہجرت ہو یا مکہ کا فاتحِ اعظم، ایران، یونان اور روم کے بادشاہوں اور فرماں روا کی صورت میں، جس حیثیت سے بھی آپ حضرت محمد (ﷺ) کی سیرت کا مطالعہ کریں آپؐ کو کسی قسم کا اختلافِ قلب و نظر دکھائی نہیں دے گا۔ آپ نے جس صداقت کے پیغام کو شروع کیا اس سے زندگی کے کسی مرحلے پر ایک انچ ہٹے ہوئے آپ کی زندگی نظر نہیں آئی۔ ہر شخص جس کے ظاہری حالات بدل جائیں اس کے خیالات میں کچھ تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں لیکن پیغمبر اسلام (ﷺ) کی زندگی میں مجھے یکسانی اور خیالات کی وحدت نظر آتی ہے۔ کسی بڑے سے بڑے انقلاب نے آپؐ کی زندگی کے مقاصد کو تبدیل نہیں کیا۔‘‘ (محمدؐ اور محمدن ازم)

سٹینلے لین پول

’’حضرت محمد ﷺ اپنے آبائی شہر میں فاتحانہ داخل ہوئے۔ آپ ﷺ کے جانیں دشمن جو آپؐ کے خون کے پیاسے تھے۔ آپؐ نے ان سب کو معاف کر دیا۔ یہ ایسی فتح تھی یہ ایسا پاکیزہ فاتحانہ داخلہ تھا جس کی مثال ساری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔‘‘

سر ولیم میور

’’محمد (ﷺ) کی تعلیم بہت مختصر اور سادہ تھی۔ آپؐ کی تعلیم نے حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دی۔ اوائل مسیحیت سے لے کر تا ایں دم لوگوں میں ایسی روحانی بیداری کسی وقت میں پیدا نہیں ہوئی تھی، نہ لوگوں کے اندر ایسا ایمانی جوش پیدا ہُوا کہ وہ اپنے ضمیر کی خاطر ہر قسم کی جانیں و مالی قربانی کر سکتے۔ یہودیت کی آواز عرصہ سے اہلِ مدینہ کے کانوں میں آرہی تھی لیکن یہ تاثیر پیغمبرِ عرب ﷺ ہی کے الفاظ میں تھی جس نے مدینہ والوں کو یک لخت بیدار کر دیا اور زندگی کی روح ان میں پھونک دی۔‘‘ (لائف آف محمدؐ)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ان کے اندر کی زندگی صداقت کا دنیا کی پیدا کر کے ساتھ ان کے ا کر دیا نہیں ا

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات