Juraat:
2026-06-03@01:13:22 GMT

جاوید عالم اوڈھو نے86ویں آئی جی سندھ کا چارج سنبھال لیا

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

جاوید عالم اوڈھو نے86ویں آئی جی سندھ کا چارج سنبھال لیا

سی پی او کراچی آمد،پولیس کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش
آئی جی سندھ کی شہدا کی یادگار پر حاضری، وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ

جاوید عالم اوڈھو نے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے بعد انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ کے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا۔جاویدعالم اوڈھوسندھ پولیس کے 86ویں آئی جی سندھ ہیں۔ سی پی او کراچی آمد پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کو سندھ پولیس کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے پولیس کے شہدا کی یادگار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔آئی جی سندھ نے شہدا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔جاوید عالم اوڈھو نے سی پی او میں اعلی پولیس افسران سے ملاقات بھی کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جاوید عالم اوڈھو نے کی جانب سے پولیس کے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود