آزاد خان کی کراچی پولیس چیف تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ایڈشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ آزاد خان کو کراچی پولیس چیف تعینات کردیا گیا، چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 21 کے افسر آزاد خان کراچی پولیس چیف تعینات کیا گیا ہے جبکہ ذوالفقار لاڑک ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ تعینات کیے گئے ہیں۔
شرجیل کھرل کی بطور ایڈیشنل آئی جی آپریشنز سندھ تعیناتی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اقبال دارا کو ایڈیشنل آئی جی پولیس ٹریننگ سندھ کا اضافی چارج سونپا گیا ہے، جبکہ پرویز چانڈیو ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ، فیصل عبداللّٰہ چاچڑ ڈی آئی جی میرپور خاص تعینات کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ناصر آفتاب کو ڈی آئی جی سکھر کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔