کچے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور آپریشن جاری رکھا جائے: وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچے کے علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشن پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے، کیونکہ امن و امان کے قیام کے لیے کسی قسم کی نرمی یا وقفہ ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بات انہوں نے نئے تعینات آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے ملاقات کے دوران کہی، جہاں وزیرِ اعلیٰ نے سندھ پولیس کی کمان سنبھالنے پر آئی جی سندھ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملاقات میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، پولیس کی کارکردگی اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ پولیس کا عوام دوست تشخص بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے مؤثر اصلاحات اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے سیف سٹی منصوبے کو مزید فعال اور مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جرائم کی روک تھام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے یقین دلایا کہ حکومت سندھ پولیس کی بہتری، استعداد کار میں اضافے اور وسائل کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ ریاستی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار سے بھی آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ملاقات ہوئی، جس میں صوبے میں جرائم کے سدباب، اسٹریٹ کرائمز اور منظم جرائم کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔
اس ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مربوط اقدامات، بہتر انٹیلی جنس اور مؤثر پولیسنگ کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جرائم پیشہ کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔