پاکستان نے معاشی ترقی و امن میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا،گلوبل اکنامک گیلپ سروے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-08-18
اسلام آباد( نمائندہ جسارت) گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے مطابق پاکستان نے بھارت کو معیشت اور امن کے حوالے سے پیچھے چھوڑ دیا۔ گیلپ سروے کے مطابق پاکستان نے2026ء کے آغاز پر اقتصادیات اور امن کے حوالے سے بہتر کارکردگی دکھائی، 60 ممالک میں کیے گئے گلوبل اکناک گیلپ سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بھارت اور عالمی اوسط دونوں سے آگے رہا۔گلوبل سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 51 فیصد لوگ آنے والے سال کے بارے میں پْرامید ہیں، مجموعی طور پر 31 فیصد لوگوں نے مثبت رائے دی۔ گلوبل اکنامک گیلپ سروے میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی حوالے سے 53 فیصد پاکستانی 2026ء کو خوشحالی کا سال سمجھتے ہیں، پْرامید پاکستانیوں کی شرح بھارت کے 39 فیصد سے کہیں زیادہ ہے، یہ عالمی اوسط 24 فیصد سے بھی نمایاں طور پر بلند ہے۔سروے میں بتایا گیا ہے کہ امن کے حوالے سے بھی پاکستان نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، 52 فیصد پاکستانیوں کو امید ہے کہ دنیا میں امن بڑھے گا، امن کے حوالے سے بھارت میں یہ شرح صرف 26 فیصد ہے، یہ سطح پاکستان میں 1994ء کے بعد ریکارڈ کی گئی امیدوں میں سے ایک بلند ترین سطح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امن کے حوالے سے پاکستان نے گیلپ سروے گیا ہے کہ سروے میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :