عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ اور بروقت انصاف کی فراہمی کیلیے پرعزم ہے‘ چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ، قانون کی بالادستی کے فروغ، منصفانہ، غیر جانبدار اور بروقت انصاف کی فراہمی کیلیے پرعزم ہے۔ عدالت عظمیٰ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے نئے سال کے آغاز پر پاکستانی قوم، عدلیہ کے اراکین، قانونی برادری اور انصاف کے متلاشی تمام افراد کو دلی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال عدلیہ ایسے بامعنی اصلاحاتی اقدامات پر کام کرے گی جن کا مقصد انصاف تک رسائی کو بہتر بنانا، مقدمات میں تاخیر کم کرنا، شفافیت کو مضبوط بنانا اور عدالتی کارکردگی میں بہتری کے لیے ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ ان اصلاحات کا محور وہ نتائج ہوں گے جو عوام کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں،ان میں بروقت فیصلے، قابل فہم طریقہ کار اور ایسی عدالتیں شامل ہیں جو عوام دوست اور انسانی ہمدردی پر مبنی ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عدلیہ ہر شہری کی خدمت انصاف، خودمختاری اور ہمدردی کے ساتھ کرتی رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیا سال قانون کی حکمرانی پر عوام کے اعتماد میں اضافے اور ایسے نظامِ انصاف کا موجب بنے گا جو ہر فرد تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئین عدلیہ کو یہ اہم ذمہ داری سونپتا ہے کہ انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے، یہ ذمہ داری اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب عام شہری امید، اعتماد اور بعض اوقات بے بسی کے عالم میں عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔ شہری مرکز انصاف کے نظام پر زور دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آنے والا سال غور و فکر، اصلاحات اور اس عزم کی تجدید کا متقاضی ہے کہ عدالتی عمل میں شہری کو مرکزیت دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انصاف محض اصولی نہیں بلکہ عملی طور پر قابل رسائی ہونا چاہیے، طریقۂ کار باوقار اور خواتین، بچوں، معاشرے کے محروم طبقات اور دور دراز و پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ادارے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اجتماعی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور دیانت داری کے ذریعے عدلیہ عوامی اعتماد کو مزید مستحکم اور آئین میں درج اعلیٰ اقدار کی پاسداری جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ا چیف جسٹس انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔