ملک کے 5 بڑے لیڈروں کو اعتماد سازی کیلئے مل بیٹھنے کی ضرورت ہے، رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اداروں کی قیادت کے خلاف کردار کشی کی مہم بند کرے تو بانی تحریک انصاف سے ملاقات کا راستہ نکل سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ صدر، وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی سمیت 5 بڑوں کو اعتماد سازی کیلئے آپس میں مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف اداروں کی قیادت کے خلاف کردار کشی کی مہم بند کرے تو بانی تحریک انصاف سے ملاقات کا راستہ نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اداروں کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے انہیں بند کیا جانا چاہیے، پی ٹی آئی قیادت یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتی کہ ان اکاؤنٹس پر ان کا کوئی کنٹرول یا تعلق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو ان اکاؤنٹس سے اظہار لاتعلقی کرنا ہوگا، پی ٹی آئی کی 8 فروری کی اپیل ناکام ہوگی، وہ پہیّہ جام نہیں کر پائے گی۔ رانا ثناء نے کہا کہ صورتحال صرف تب بہتر ہوسکتی ہے جب 5 بڑوں میں اعتماد بڑھانے کے اقدامات ہوں۔ ان بڑوں میں شہباز شریف، آصف زرداری، بانی پی ٹی آئی شامل ہیں جب تک ان شخصیات کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات نہیں ہوں گے، بریک تھرو نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک انصاف رانا ثناء پی ٹی ا ئی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔