پاک افغان سرحد کی بندش کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

سال 2025 کے آخری 2 ماہ کے دوران مجموعی طور پر دہشتگردی میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان سرحد کی بندش سے افغانستان کو کتنا تجارتی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے؟

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیزکی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 11 اکتوبر کو افغانستان کے ساتھ سرحد بند کرنے کے بعد سرحد پار دہشتگرد حملوں اور تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر میں دہشتگرد حملوں میں تقریباً 17 فیصد کمی آئی جبکہ نومبر میں اس سے قبل 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔

سال 2025 کی آخری سہ ماہی میں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں بھی کم ہوئیں جہاں نومبر اور دسمبر میں بالترتیب تقریباً 4 فیصد اور 19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

سی آر ایس ایس کے مطابق اگرچہ سال کے آخری 2 ماہ میں سرحد پار حملوں میں کمی آئی تاہم مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کا سب سے پرتشدد سال ثابت ہوا۔

ملک 2021 سے مسلسل 5ویں سال تشدد میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے جو افغانستان میں طالبان کی واپسی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

سنہ 2021 میں تقریباً 38 فیصد، 2022 میں 15 فیصد سے زائد، 2023 میں 56 فیصد، 2024 میں قریب 67 فیصد اور سال 2025 میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید پڑھیے: بلوچستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، 33 بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج ہلاک

سال 2025 کے دوران تشدد کے 1272 واقعات، دہشتگرد حملوں اور انسداد دہشتگردی آپریشنز کے نتیجے میں عام شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور شدت پسندوں سمیت مجموعی طور پر 3417 افراد ہلاک اور 2134 زخمی ہوئے۔

سنہ 2024 کے مقابلے میں 2025 میں ہلاکتوں کی تعداد 2555 سے بڑھ کر 3417 ہو گئی یعنی 862 ہلاکتوں کا اضافہ یا تقریباً 34 فیصد سال بہ سال اضافہ ہوا۔

تشدد میں سب سے زیادہ اضافہ خیبر پختونخوا میں ریکارڈ کیا گیا جہاں ہلاکتیں 2024 میں 1620 سے بڑھ کر سال 2025 میں 2331 ہو گئیں یعنی 711 کا اضافہ جو قومی سطح پر مجموعی اضافے کا 82 فیصد سے زائد بنتا ہے اور صوبے میں تقریباً 44 فیصد سالانہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

’پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوتی ہے‘

پاک افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی وجہ افغانستان میں سرگرم مسلح گروہ ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور طورخم گزرگاہ کی بندش، سرحدی علاقہ خالی ہونے لگا

پاکستان نے اس حوالے سے افغانستان کو واضح پیغام دیا ہے جس کی وجہ سے سرحدیں بھی بند کی گئیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں کئی کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں جو وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہی ہیں۔

پاک افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے عارف حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے بیشتر حملوں کا تانا بانا کسی نہ کسی طرح افغانستان سے ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواہ پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ ہو یا وانا میں کیڈٹ کالج پر حملہ ان کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی تھی۔

عارف حیات کے مطابق پاکستان کا دہشتگردی کے حوالے سے اب واضح مؤقف ہے کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی ختم کرے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان دوحہ معاہدے کے تحت پابند ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی، سعودی عرب کا ردعمل بھی آگیا

عارف حیات نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے، بارڈر بندش سے صورتحال بہتر ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے جس کا تعلق افغانستان سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرحد بندش سے صوبے کے عوام اور تاجر برادری کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن امن و امان کے بڑے مسئلے میں بہتری آئی ہے۔

’دوحہ معاہدے کے تحت افغان حکومت اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے‘

عرفان اشرف۔ پشاور میں شعبہ جرنلزم سے وابستہ ہیں اور پاک افغان امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوحہ میں 2 معاہدے ہوئے تھے، ایک امریکا کے ساتھ اور دوسرا حال ہی میں پاکستان کے ساتھ۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں معاہدوں کے مطابق افغان عبوری حکومت پابند ہے کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہ دے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب امریکا اس معاہدے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا جبکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہے اس لیے چاہیے کہ مل بیٹھ کر معاملات درست کیے جائیں‘۔

افغانستان میں کون سے گروپس سرگرم ہیں؟

پشاور کے سینئر صحافی اور پاک افغان امور کے ماہر مشتاق یوسفزئی کہتے ہیں کہ اس وقت افغانستان کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور افغان عبوری حکومت اس کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔

انہوں نے بتایا کہ سوات آپریشن کے بعد مالاکنڈ سے بڑی تعداد میں دہشتگرد مولانا فضل اللہ کے ساتھ افغانستان کے کنڑ گئے تھے اور اب وہاں سے سرگرم ہیں۔

ان کے مطابق افغانستان کے پاکستان سے متصل علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کیمپس موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کی سرحد بھارت کی وجہ سے غیر محفوظ ہو گئی ہے، طلحہ محمود

مشتاق یوسفزئی نے کہا کہ افغان طالبان حکومت آسانی سے ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی کیونکہ اس سے یہ گروپس ان کے مخالف بن سکتے ہیں۔

سینیئر صحافی محمود جان بابر کے مطابق ٹی ٹی پی اور افغان طالبان نظریاتی اتحادی ہیں اور مشکل وقت میں ٹی ٹی پی نے ان کا ساتھ دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے واضح مطالبات کے باوجود افغانستان کارروائی نہیں کر رہا۔

مزید پڑھیے: سرحدی کشیدگی کے باعث پاک افغان بارڈر کی بندش سے افغانستان میں غذائی قلت

عارف حیات کے مطابق افغانستان سرحد بندش سے شدید متاثر ہوا ہے لیکن اس کے باوجود کالعدم مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک افغان بارڈر پاک افغان تنازع پاک افغان سرحد دہشتگردی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک افغان بارڈر پاک افغان تنازع پاک افغان سرحد دہشتگردی پاک افغان سرحد پاک افغان امور کے مطابق افغان افغانستان میں دہشتگرد حملوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے میں دہشتگرد پاکستان میں کارروائی نہ دہشتگردی کے کہ پاکستان ان کا کہنا اور افغان عارف حیات ریکارڈ کی نے کہا کہ کہ افغان انہوں نے فیصد کمی ٹی ٹی پی کے خلاف کی بندش کے ساتھ سال 2025 کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار