data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ کرکٹ معاملات پر پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے اور کسی بھی سطح پر بات چیت صرف برابری کی بنیاد پر ہی ہوگی۔

انہوں نے یہ بات نیا ناظم آباد میں پی سی بی انٹر اسکولز فائنل کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے اور کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔

تقریب میں چیئرمین عارف حبیب اور قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود بھی موجود تھے۔ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ویمنز ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے تمام تر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے ساتھ مینز ورلڈ کپ یا دیگر معاملات پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ مینز ورلڈ کپ کے معاملے پر انہوں نے کپتان سے کوئی بات نہیں کی کیونکہ کرکٹ کے فنی معاملات کرکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بورڈ کا کام سہولیات کی فراہمی اور نظام کی بہتری ہے تاکہ کھلاڑی بغیر کسی دباؤ کے کارکردگی دکھا سکیں۔

محسن نقوی نے کراچی میں گراؤنڈز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے سے بخوبی آگاہ ہیں اور بہت جلد کراچی سمیت پورے ملک میں گراؤنڈز کے حوالے سے اچھی خبریں سامنے آئیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل اسٹیڈیم کی تعمیر نو کے بعد یہ لاہور کے اسٹیڈیم سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگا اور پی ایس ایل سے قبل اپ گریڈیشن کا کام شروع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کا اسٹیڈیم اس معیار پر تیار کیا جائے گا کہ شائقینِ کرکٹ خود بخود اس کا رخ کریں۔ چیئرمین پی سی بی کے مطابق انٹر اسکول ٹورنامنٹس کے انعقاد کا مقصد نچلی سطح سے نیا ٹیلنٹ تلاش کرنا ہے، تاکہ مستقبل کے قومی کھلاڑی سامنے آ سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فاتح ٹیموں پر مشتمل خصوصی ایونٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

محسن نقوی کے مطابق پاکستان کرکٹ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے انفرا اسٹرکچر، ٹیلنٹ ہنٹ اور انتظامی اصلاحات پر بیک وقت کام جاری ہے، جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محسن نقوی انہوں نے پی سی بی

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا