جے شنکر اور ایاز صادق کے درمیان مصافحہ پاک بھار ت تعلقات میں نئے آغاز کی بنیاد بن سکتا ہے، سردار مسعود
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
سابق صدر آزاد کشمیر کاکہنا ہے کہ یہ ملاقات یا تو سوچے سمجھے سفارتی عمل کا حصہ ہے یا پھر پسِ پردہ رابطوں کی ایک طویل کوشش کا نتیجہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے درمیان غیر متوقع مگر بامقصد مصافحہ اور مسکراہٹوں کا تبادلہ پاک بھارت تعلقات میں ممکنہ ری سیٹ کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں پاک بھارت تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اعلی ترین سیاسی سطح پر اس نوعیت کے اشارے عموما اتفاقیہ نہیں ہوتے، بالخصوص ایسے دو ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان جن کی تاریخ کشیدگی اور عدم اعتماد سے بھری ہے۔ یہ ملاقات یا تو سوچے سمجھے سفارتی عمل کا حصہ ہے یا پھر پسِ پردہ رابطوں کی ایک طویل کوشش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وزیر خارجہ کی جانب سے، جنہوں نے ماضی میں مصافحہ کرنے سے انکار کیا، آگے بڑھ کر پاکستان کے اسپیکر سے رابطہ کرنا اور خیر سگالی کا اظہار کرنا معمول کا سفارتی عمل نہیں بلکہ سیاسی طور پر بامعنی قدم ہے۔
انہوں نے اسپیکر سردار ایاز صادق کو مفاہمت پسند اور باوقار سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شائستگی اور رابطے استوار کرنے کی شہرت نے ممکنہ طور پر بھارتی وزیر خارجہ کو اس اقدام پر آمادہ کیا۔ مسعود خان نے کہا کہ بھارت اس وقت شدید سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں تنائو بڑھ گیا ہے جبکہ داخلی سیاسی تقسیم اور سخت گیر بیانیے نے سفارت کاری کی گنجائش کم کر دی ہے۔ ایسے ماحول میں نئی دلی پاکستان کے ساتھ مخاصمت کی قیمت اور کم از کم قابلِ عمل تعلقات کی افادیت پر نظر ثانی کر رہا ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے ہمسایہ ممالک سے کٹ کر معاشی یا تزویراتی ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو صدیوں ساتھ رہنا ہے، اس لیے مکالمے اور تنازعات کے حل کے راستے تلاش کرنا ضروری ہے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ عالمی طاقتیں طویل عرصے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطوں کی حوصلہ افزائی کرتی آ رہی ہیں۔ امریکا، چین اور روس نے مئی کی جنگ کے دوران کشیدگی کم کرنے میں خاموش کردار ادا کیا اور بعد ازاں دونوں ممالک کو بات چیت کی طرف واپس آنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق امریکی صدر، سینئر امریکی قانون سازوں اور علاقائی رہنمائوں نے بھی مذاکرات پر زور دیا، خصوصا مسئلہ کشمیر کے حل کو جنوبی ایشیا کے طویل المدتی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان نے بارہا بھارت کے ساتھ تنازعات کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں اور یہ مصافحہ اسی تسلسل کا حصہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بھی بھارت اور پاکستان دونوں کو بارہا پیغام دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
انہوں نے بھارت اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح پر حالیہ سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اب طویل محاذ آرائی اور بیرونی مداخلت کی قیمت کو بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے، جس کی ایک وجہ امریکی سفارتی ضمانتیں اور دونوں اطراف کی جانب سے کشیدگی کے خطرات کا ادراک ہے۔ تاہم مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے سخت نظریاتی موقف، اندرونی سیاسی ماحول اور بالخصوص کشمیر سے متعلق ماضی کے یکطرفہ اقدامات جامع امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تاخیر کا شکار ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ آیا بھارت خودمختاری کے اصولوں اور باہمی احترام کی بنیاد پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء میں بھارت کے ساتھ جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کو دوبارہ سفارتی اہمیت اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سردار مسعود خان نے کہا مسعود خان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ کے درمیان بھارت کے کے ساتھ
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔