ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے موثر پلیٹ فارم بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کی انقلابی اصلاحاتی نے پاکستان کی معیشت کو غیر ملکی سرمایہ کاری، اعتماد اور معاشی استحکام کی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
مشیرخزانہ خرم شہزاد نے ایس آئی ایف سی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایف سی ایک اہم پلیٹ فارم ہے اس کا اصل مینڈیٹ سہولت کاری ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا اور آج اس محنت کے نتائج واضح ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے بیوروکریٹک رکاوٹیں ختم کر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک مربوط اور موثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاروں کو مکمل سیکیورٹی اور موثر سہولت کاری کی فراہمی میں عسکری قیادت کا کلیدی کردار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایس آئی ایف سی کی ون ونڈو پالیسی نے سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری، مسائل کا فوری حل اور کاروباری ماحول میں شفافیت کو ممکن بنایا، پاکستان کے صنعتی اور کاروباری شعبوں میں پیداواریت اور افادیت بڑھانے کے لیے ایس آئی ایف سی نے موثر اقدامات کیے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات کی بدولت بین الاقوامی سرمایہ کار امریکا، سعودی عرب، قطر، ترکی اور چین میں سرمایہ کاری میں دلچسپی بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان میں مضبوط میکرو اکنامک استحکام کے فروغ اور سرمایہ کاری کے ماحول کو شفاف بنانے میں ایس آئی ایف سی کا کردار بے مثال اور قابلِ ستائش ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں کے ایس آئی ایف سی ایف سی کی کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔
قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔
انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔
قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔