9 مئی ڈیجیٹل دہشتگردی کیس: عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر، معید پیرزادہ کو عمر قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کرنے کے کیس کا فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر اور معید پیرزادہ کو 2، 2 بار عمر قید کی سزا سنا دی۔
عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں سنائیں۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔
عدالت نے ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جج طاہر عباس سپرا نے محفوظ فیصلہ سنایا۔
پراسکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
تھانہ آبپارہ کے مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ تھانہ رمنا کے مقدمے میں شاہین صبہائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی۔
عدالت نے پراسیکوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا۔ پراسکیوشن کی جانب سے راجا نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت میں ملزمان کی جانب سے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ گلفام گورائیہ ایڈووکیٹ کو عدالت کی جانب سے ملزمان کا وکیل مقرر کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی جانب سے قید کی سزا عدالت میں عدالت نے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ