میں پاکستانی مسلمان ہوں، کہا گیا آسٹریلیا کیلیے نہیں کھیل سکو گے، عثمان خواجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔
عثمان خواجہ کا 15 سالہ ٹیسٹ کیریئر صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ میدان سے باہر بھی ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے۔
39 سالہ عثمان خواجہ نے ایک طویل اور جذباتی پریس کانفرنس میں اپنے کیریئر کے ساتھ ساتھ نسلی امتیاز اور شناخت کے مسائل پر بھی کھل کر بات کی۔
پاکستان میں پیدا ہونے والے عثمان خواجہ پانچ سال کی عمر میں آسٹریلیا منتقل ہوئے جو بعد ازاں آسٹریلیا کی نیشنل ٹیم کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلمان کرکٹر بنے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں انہیں نسلی تعصب کا سامنا رہا، اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرنی پڑتی تھی۔ کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے خود کو دوسروں جیسا دکھانے کی کوشش کی، مگر اس کے باوجود انہیں بار بار ٹیم سے باہر کیا گیا۔
عثمان خواجہ نے کہا کہ 2012 میں کوئنزلینڈ منتقل ہونے کے بعد اپنی اصل شخصیت کو قبول کیا، جس کا مثبت اثر میری کارکردگی پر بھی پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ میں فخریہ مسلمان ہوں، میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ مجھے ملسمان ہونے کی وجہ سے کہا گیا تم آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیل سکو گے، لیکن آج میں یہاں بیٹھا ہوں۔
مزید پڑھیںعثمان خواجہ کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
عثمان خواجہ کی نوعمر بیٹیاں نسل پرستانہ حملے کی زد میں آگئیں
Look at his 88 Tests.
His legacy left behind ????????
KHAWAJA REFLECTS ???? https://t.co/7xvZBEV8SO pic.twitter.com/Aq8p26aDXL — Fox Cricket (@FoxCricket) January 2, 2026
عثمان خواجہ نے حالیہ ایشز سیریز کے دوران ہونے والی تنقید کو بھی نسلی تعصبات سے جوڑا، جب انہیں گالف کھیلنے پر غیر معمولی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق اسی طرح کے معاملات میں دیگر کھلاڑیوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے کرکٹ میں شمولیت، تنوع اور مساوات پر بھی بات کی اور کہا کہ اگرچہ بہتری آئی ہے مگر اب بھی چیلنجز موجود ہیں۔ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ وہ نفرت کے بجائے اتحاد اور انسانیت کی بات کرتے رہیں گے۔
آخر میں عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک اچھے انسان، عاجز کرکٹر اور نوجوانوں کے لیے امید کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو خود کو مختلف یا نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔
Australian cricketer Usman Khawaja used his retirement speech to take aim at “right wing politicians” and their rhetoric on mass immigration and Islam, defending his views by appealing to inclusivity and pointing to his own background and mixed race family as an example. pic.twitter.com/IaesxmVUMB
— Australians vs. The Agenda (@ausvstheagenda) January 2, 2026
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عثمان خواجہ نے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز شاندار اور رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے ہوگیا، جہاں اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے نے قومی پرچم کے ساتھ باوقار انداز میں مارچ پاسٹ کیا۔ پاکستان ایونٹ میں 6 مختلف کھیلوں میں حصہ لے گا اور تمغوں کی سب سے زیادہ امید ارشد ندیم سے وابستہ ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز جمعرات کو ہائیڈرو ایرینا میں ایک شاندار، رنگا رنگ اور منفرد افتتاحی تقریب سے ہوا، جس نے اسکاٹ لینڈ کی بھرپور ثقافتی روایات کو جدید انداز میں پیش کرتے ہوئے گیمز کی تاریخ کی یادگار افتتاحی تقریبات میں اپنا مقام بنا لیا۔
یہ بھی پڑھیے کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم ایک بار پھر تاریخ دہرانے کے لیے پرعزم
افتتاحی تقریب میں سینکڑوں کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین نے شرکت کی۔ موسیقی، دلکش روشنیوں، جدید بصری اثرات اور فنکارانہ پرفارمنسز نے پورے ایرینا کو جشن کے رنگوں میں رنگ دیا، جبکہ دولتِ مشترکہ کے مختلف رکن ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔
27 رکنی پاکستانی دستہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی ریکارڈ ہولڈر جیولن تھروور ارشد ندیم کی قیادت میں میدان میں داخل ہوا۔ مارچ پاسٹ کے دوران ارشد ندیم نے قومی پرچم تھام رکھا تھا۔ اس بار روایت سے ہٹ کر کھلاڑیوں کی پریڈ انگریزی حروفِ تہجی کے بجائے براعظموں کی بنیاد پر ترتیب دی گئی، جس کے تحت سب سے پہلے افریقی ممالک کے دستے اور اس کے بعد ایشیائی ممالک کے کھلاڑی میدان میں آئے۔
پاکستان کامن ویلتھ گیمز میں 6 مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا، جن میں ایتھلیٹکس، باکسنگ، جمناسٹکس، جوڈو، لان بولز اور تیراکی شامل ہیں۔
قومی دستے کی سب سے بڑی امید ارشد ندیم ہیں، جنہوں نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی اور عالمی سطح پر نمایاں کامیابیوں کے باعث ایک بار پھر پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے کی توقعات کو مضبوط کر دیا ہے۔
ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے ان کھیلوں میں دولتِ مشترکہ کے بہترین ایتھلیٹس مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے، جبکہ پاکستان خصوصاً ایتھلیٹکس اور باکسنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
23ویں کامن ویلتھ گیمز اسکاٹ لینڈ اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کھیل گلاسگو