سابق سیکرٹری اطلاعات عنبرین جان چیئرمین پیمرا نامزد ، پارلیمانی کمیٹی نے منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پارلیمانی کمیٹی نے عنبرین جان کوپاکستان الیکٹرانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کاچیئرمین بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ عنبرین جان سابق سیکرٹری اطلاعات بھی رہ چکی ہیں اور انہیں اس اہم ذمہ داری کے لیے باضابطہ نامزد کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے مشترکہ غور و خوض کے بعد عنبرین جان کی نامزدگی کی تائید کی، جس کے بعد ان کےچیئرمین پیمرا کے طور پر تقرر کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق عنبرین جان کے پاس میڈیا اور اطلاعات کے شعبے میں وسیع تجربہ موجود ہے جس سے وہ ادارے کو مزید موثر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔پیمرا کے نئے چیئرمین کے انتخاب کو میڈیا ریگولیشن، نشریاتی معیار اور پالیسی سازی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔