افغان طالبان پر امدادی رقوم پر لوٹ مار کا الزام، عوام بھوک اور بدحالی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغانستان میں برسراقتدار طالبان رجیم پر ایک بار پھر بین الاقوامی امدادی رقوم اور سامان میں بدترین کرپشن کے الزامات سامنے آ گئے ہیں، جن سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد بڑی حد تک مستحق افغان عوام تک پہنچنے کے بجائے حکمران طبقے کی نذر ہو رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان انتظامیہ نے ایک بار پھر امدادی پیکجز پر قبضہ کرکے ضرورت مندوں کو شدید مایوسی سے دوچار کر دیا ہے جب کہ ملک بھر میں لاکھوں افراد بھوک اور افلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق صوبہ کندز میں ضرورت مند شہریوں کے لیے بھیجی گئی امداد کا نصف حصہ طالبان حکام نے خود ہڑپ کر لیا۔ یہ امدادی پیکجز سعودی کنگ سلمان ہیومینی ٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے، جن کا مقصد شدید سردی اور معاشی بحران سے متاثرہ افغان عوام کو فوری ریلیف دینا تھا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم نے امدادی سامان کا بڑا حصہ اپنی تحویل میں رکھ لیا جبکہ مستحق خاندان خالی ہاتھ رہ گئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ طالبان انتظامیہ نے عوام کی بنیادی ضروریات اور بھوک کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے امدادی وسائل کو من پسند افراد میں تقسیم کیا یا خود استعمال میں لے لیا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ طالبان پر اس نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہوں، اس سے قبل بھی عالمی اور مقامی سطح پر امدادی سامان کی غیر منصفانہ تقسیم اور لوٹ مار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ افغانستان میں امدادی سرگرمیاں شدید مداخلت کا شکار ہیں۔
امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغانستان ری کنسٹرکشن سگار کی رپورٹس میں بھی طالبان رجیم کی کرپشن کو کھل کر بے نقاب کیا گیا ہے۔ سگار کی ایک رپورٹ کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مداخلت کے 150 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں سے تقریباً 95 فیصد طالبان انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان طاقت اور دباؤ سمیت ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے امداد کو اپنی مرضی کے افراد میں تقسیم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اصل مستحقین تک امداد پہنچ ہی نہیں پاتی۔
سگار رپورٹ کے مطابق افغان عوام کے لیے 2025 تک مجموعی طور پر 10.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رپورٹ میں کہ طالبان گیا ہے کہ کے مطابق
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔