Express News:
2026-07-24@02:02:20 GMT

طالبان حکومت پر امدادی رقوم میں لوٹ مار کے سنگین الزامات

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

افغانستان میں طالبان حکومت پر بین الاقوامی امدادی رقوم اور سامان میں بدعنوانی کے الزامات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکام نے ضرورت مند عوام کے لیے آنے والی امداد کا بڑا حصہ خود ہڑپ کر لیا، جبکہ عام شہری بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔

افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق صوبہ کندز میں طالبان حکام نے مستحقین کے لیے مختص امدادی سامان کا تقریباً نصف حصہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہ امدادی پیکجز سعودی کنگ سلمان ہیومینی ٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی سامان کا بڑا حصہ طالبان حکام نے خود رکھ لیا، جبکہ ضرورت مند افراد کو مکمل امداد فراہم نہیں کی گئی۔ میڈیا کے مطابق طالبان حکومت نے عوام کی بنیادی ضروریات اور غذائی قلت کو نظر انداز کیا ہے۔

طالبان کی جانب سے امدادی سامان میں مبینہ لوٹ مار پر عالمی اور مقامی سطح پر پہلے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کی متعدد رپورٹس میں امداد کی تقسیم میں کرپشن اور مداخلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں

افغانستان؛ طالبان نے موسیقی کے سیکڑوں آلات ضبط کرکے نذرِ آتش کر دیئے

طالبان کی علم دشمنی مزید بے نقاب، سینکڑوں کتابیں اور نصاب پر پابندی

طالبان دور میں سیکیورٹی بحران شدید، افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے غیر محفوظ ملک قرار

سگار رپورٹ کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مداخلت کے 150 واقعات میں سے 95 فیصد طالبان حکومت سے منسلک تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان طاقت اور دباؤ کے ذریعے امداد کو من پسند افراد میں تقسیم کرتے ہیں، جبکہ اصل مستحقین تک امداد نہیں پہنچ پاتی۔

سگار کے مطابق 2025 تک افغان عوام کے لیے دی جانے والی بین الاقوامی امداد کا حجم 10.

72 ارب ڈالر رہا، جس میں 3.83 ارب ڈالر امریکا کی جانب سے فراہم کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 293 ملین ڈالر دہشت گرد نیٹ ورکس کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔

طالبان حکومت پر کرپشن، بدانتظامی اور شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی کے الزامات کے بعد امریکا نے افغانستان کے لیے تمام امداد مکمل طور پر معطل کر دی ہے، جبکہ افغان عوام کی انسانی صورتحال بدستور سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طالبان حکومت کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق