Express News:
2026-07-24@09:32:42 GMT

طالبان حکومت پر امدادی رقوم میں لوٹ مار کے سنگین الزامات

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

افغانستان میں طالبان حکومت پر بین الاقوامی امدادی رقوم اور سامان میں بدعنوانی کے الزامات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکام نے ضرورت مند عوام کے لیے آنے والی امداد کا بڑا حصہ خود ہڑپ کر لیا، جبکہ عام شہری بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔

افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق صوبہ کندز میں طالبان حکام نے مستحقین کے لیے مختص امدادی سامان کا تقریباً نصف حصہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہ امدادی پیکجز سعودی کنگ سلمان ہیومینی ٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی سامان کا بڑا حصہ طالبان حکام نے خود رکھ لیا، جبکہ ضرورت مند افراد کو مکمل امداد فراہم نہیں کی گئی۔ میڈیا کے مطابق طالبان حکومت نے عوام کی بنیادی ضروریات اور غذائی قلت کو نظر انداز کیا ہے۔

طالبان کی جانب سے امدادی سامان میں مبینہ لوٹ مار پر عالمی اور مقامی سطح پر پہلے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کی متعدد رپورٹس میں امداد کی تقسیم میں کرپشن اور مداخلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں

افغانستان؛ طالبان نے موسیقی کے سیکڑوں آلات ضبط کرکے نذرِ آتش کر دیئے

طالبان کی علم دشمنی مزید بے نقاب، سینکڑوں کتابیں اور نصاب پر پابندی

طالبان دور میں سیکیورٹی بحران شدید، افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے غیر محفوظ ملک قرار

سگار رپورٹ کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مداخلت کے 150 واقعات میں سے 95 فیصد طالبان حکومت سے منسلک تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان طاقت اور دباؤ کے ذریعے امداد کو من پسند افراد میں تقسیم کرتے ہیں، جبکہ اصل مستحقین تک امداد نہیں پہنچ پاتی۔

سگار کے مطابق 2025 تک افغان عوام کے لیے دی جانے والی بین الاقوامی امداد کا حجم 10.

72 ارب ڈالر رہا، جس میں 3.83 ارب ڈالر امریکا کی جانب سے فراہم کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 293 ملین ڈالر دہشت گرد نیٹ ورکس کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔

طالبان حکومت پر کرپشن، بدانتظامی اور شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی کے الزامات کے بعد امریکا نے افغانستان کے لیے تمام امداد مکمل طور پر معطل کر دی ہے، جبکہ افغان عوام کی انسانی صورتحال بدستور سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طالبان حکومت کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق