بیمارریاستی اداروں کی نجکاری اصلاحاتی ویژن کا حصہ ہے ،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد :(نیوزڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کہ خسارے میں جانے والے ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔ ہم ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے ہیں۔ انھوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کو خوش آئند قرار دیا۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کے اراکین کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری انتہائی کامیابی سے طے پائی اور بڈنگ کا عمل انتہائی شفاف رہا.
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایک روز قبل ان کی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر خوشگوار بات چیت ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تعلقات کو مزید وسیع تر کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔
اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز کے تین دسمبر اور 30 دسمبر، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی ، جس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈینینس ، 2025 کے حوالےسے کاروائی کی توثیق بھی شامل ہے۔
وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 26 اگست، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی جس میں آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹ) لیوی کے حوالے سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور اس حوالے سے حکمت عملی ترتیب دینے کے حوالے سے فیصلے کی توثیق بھی شامل ہے۔
وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر تھرڈ پارٹی کی جانب سے آف دی گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت کے حوالے سے آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025 میں ترمیم کے صدارتی حکم نامے کے اجراء کے لئے کاروائی کی بھی منظوری دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ کے حوالے سے کی نجکاری
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔