data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پنجاب حکومت نے جائیدادوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے اور فرد اور رجسٹری کے بجائے اب پنجاب بھر میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا نظام نافذ کر دیا ہے،  اس نئے اقدام کا مقصد جائیداد کی خرید و فروخت میں ممکنہ فراڈ اور جعلسازی کو روکنا ہے۔

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا آغاز:

پنجاب کے بیس اضلاع میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجراء کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سیالکوٹ میں اس منصوبے کو بطور پائلٹ پراجیکٹ لانچ کیا گیا، جس کی کامیابی کے بعد اسے پنجاب کے دیگر اضلاع جیسے ملتان، ساہیوال، جہلم، راولپنڈی، اوکاڑہ، اور خوشاب سمیت بیس اضلاع میں نافذ کر دیا گیا ہے۔ اب پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ہر قسم کی جائیداد کے لیے یہ سرٹیفکیٹ استعمال کیا جائے گا۔

دائرہ کار کی توسیع:

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے مطابق گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا دائرہ کار آئندہ مرحلوں میں باقی اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔ درخواست دہندگان قریبی اراضی ریکارڈ سینٹر یا متعلقہ اتھارٹیز میں اپنی درخواست جمع کروا سکیں گے۔ درخواست کی وصولی، کوائف کی جانچ اور سروے کی تصدیق کے بعد سرٹیفکیٹ کا اجراء کیا جائے گا۔

نظام کا مقصد:

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ سے جائیداد کی حدود اور ملکیت کا تحفظ مضبوط ہوگا۔ اس سے نہ صرف جائیداد کی خرید و فروخت میں شفافیت آئے گی بلکہ فراڈ اور جعلسازی کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے، جس سے عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔

یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی جانب سے جائیدادوں کے متعلق قوانین کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جس کا مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرٹیفکیٹ کا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ