وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صوبائی معاملات پر بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے انہیں اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنے کی ہدایت نہیں دی ہے۔
سہیل آفریدی نے صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا گیا ہے، وہ صوبے کے مفاد میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے تیار ہیں، بانی پی ٹی آئی سے ان کی ملاقات نہیں کرائی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں، حکومت کو اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو عوام کے مفاد میں ہو،پشاور کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، مگر لاہور کی طرح جلسوں اور جلوسوں پر پابندی نہیں ہوگی، ضم اضلاع میں ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے بقایاجات کا جلد حل نکالنا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی کے تحت 700 ارب روپے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے ہیں، وفاق نے اس حوالے سے صرف 168 ارب روپے فراہم کیے ہیں، جب کہ بجلی کے خالص منافع اور دیگر بقایاجات کی مد میں وفاقی حکومت کا 4 ہزار ارب روپے سے زائد قرض باقی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ترقی کا عمل شروع کرنا ضروری ہے، اور امن و امان کی صورت حال ان کی حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، جس پر قابو پانے کے لیے وہ پوری طرح سے کوشاں ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کرپشن کے حوالے سے ہے اور وہ ترقی، شفافیت، اور میرٹ پر زور دیتے ہیں، ضم اضلاع کے مسائل وفاقی حکومت کے ذمہ ہیں اور ان کے حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اپنے حالیہ لاہور دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بدتمیزی کی گئی جس پر معذرت کی گئی، پنجاب میں ہمارے ساتھ برا سلوک کیا گیا، مگر اس کے باوجود ہم نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کی، سہیل آفریدی نے کراچی کے دورے کا بھی اعلان کیا، جہاں وہ آئی ایس ایف اور آئی ایل ایف سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے 8 فروری کو ہونے والے احتجاج کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ہر صورت میں ہوگا، تمام سابقہ وزرا اور حکومتی ارکان سے گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں اور دفاتر کے تالے کھولنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے 100 دنوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ پیش کرنے کا وعدہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے وفاقی حکومت ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے ا بات چیت
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔