ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ٹرمپ کے بیان پر تہران کا سخت جواب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں پُرامن مظاہرین کے تحفظ کے لیے ممکنہ مداخلت کی دھمکی کے بعد ایرانی قیادت نے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سرحدوں یا سلامتی میں مداخلت کرنے والا کوئی بھی ہاتھ نہیں بچائے گا اور اسے سخت سزا دی جائے گی۔
علی شمخانی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ ایرانی قوم امریکا کی جانب سے دیگر ممالک میں ’’بچانے‘‘ کے بہانے کی مداخلت سے بخوبی واقف ہے، چاہے وہ عراق، افغانستان یا غزہ ہو۔ ان کے مطابق امریکی اقدامات ہمیشہ خطے میں افراتفری اور انسانی نقصان کا سبب بنے ہیں۔
اسی طرح ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی قیادت کے بیانات کے بعد پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں واضح ہو گئی ہیں۔
علی لاریجانی نے زور دیا کہ ایران مظاہرہ کرنے والے تاجروں اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے درمیان واضح فرق کرتا ہے اور اس فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے داخلی امور میں کسی بیرونی مداخلت کو قطعی ناقابل قبول سمجھتا ہے۔
لاریجانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور امریکا کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔
انہوں نے امریکی عوام کو بھی تنبیہ کی کہ اس مہم جوئی کی ابتدا خود صدر ٹرمپ نے کی ہے، لہٰذا انہیں اپنے فوجیوں کی حفاظت کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’’ٹروتھ‘‘ پر کہا تھا کہ اگر ایران نے پُرامن مظاہرین پر تشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکا ان کی حفاظت کے لیے مداخلت کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ مظاہرین کو بچانے کے لیے ہر طرح سے تیار ہے، جس نے ایران میں سیاسی کشیدگی اور خطے میں بین الاقوامی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔