13برس میں21 لاکھ بھارتیوں نےانڈین شہریت ترک کردی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
نئی دہلی: ہندوتوا کی پیروکار مودی حکومت کے دور میں بھارتیوں کی اکثریت ملک چھوڑ کر جارہی ہے اور دیگر ممالک کی شہریت حاصل کرتے ہوئے بھارتی شہریت ختم بھی کررہی ہے۔
13 برس میں 21 لاکھ کے قریب بھارتی شہریوں نے بھارتی شہریت ترک کرکے غیر ملکی شہریت حاصل کرلی۔
وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں انکشاف کیا کہ گزشتہ5 برس میں تقریباً 9 لاکھ بھارتی شہریوں نے اپنی بھارتی شہریت ترک کر دی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی شہریت اختیار کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ 2020 سے 2024 کے درمیان ترکِ شہریت کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
2020: 85,256
2021: 1,63,370
2022: 2,25,620
2023: 2,16,219
2024: 2,06,378
اس طرح 5سال میں کل 8,96,843 افراد بھارتی شہریت چھوڑ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، 2011 سے 2019 کے درمیان 11,89,194 بھارتیوں نے شہریت ترک کی تھی، جن کے اعداد و شمار کچھ اس طرح ہیں:
2011: 1,22,819
2012: 1,20,923
2013: 1,31,405
2014: 1,29,328
2015: 1,31,489
2016: 1,41,603
2017: 1,33,049
2018: 1,34,561
2019: 1,44,017
کیرتی وردھن سنگھ نے بتایا کہ سال 2024–25 میں بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں کی جانب سے 16,127 شکایات مختلف سرکاری آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعہ موصول ہوئیں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم بھارتیوں کی شکایات نمٹانے کے لیے حکومت کے پاس ایک مضبوط اور جامع نظام موجود ہے، جس میں 24/7 ہیلپ لائنز، ایمبسی/کانسلیٹ میں واک اِن سہولت، سوشل میڈیا کے ذریعے فوری رابطہ اور کثیر لسانی سپورٹ سروسز شامل ہیں۔
بیشتر معاملات براہِ راست بات چیت، آجرین سے رابطہ اور متعلقہ ملک کے حکام سے ہم آہنگی کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بھارتی سفارتخانے منظور شدہ وکلاءکے ذریعے قانونی معاونت فراہم کرتے ہیں، جس کے لیے انڈین کمیونیٹی ویلفیئر فنڈ مدد فراہم کرتا ہے۔
TagsImportant News from Al Qamar.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بھارتی شہریت شہریت ترک
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر