جشن نو غل غپاڑہ یا ماتم احتساب؟؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رات کے پچھلے پہر جب شہر نے نیند کی قبا اُتاری تو ایسا معلوم ہوا جیسے قیامت کی ریہرسل ہو رہی ہو آسمان پٹاخوں کی چنگاریوں سے دہک رہا تھا زمین ہوائی فائرنگ سے تھرّا رہی تھی زمین نے گردش چھوڑ دی ہے اور آسمان نے تالی بجانی شروع کر دی ہے پٹاخوں کی بارش اور ہوائی فائرنگ کا وہ عالم کہ فرشتے بھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر کہنے لگے بھائی ذرا آہستہ ہم بھی ڈیوٹی پر ہیں۔ فضا میں ہیپی نیو ائر کا ایسا شور تھا کہ خاموشی بھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر ایک طرف جا بیٹھی ہم نے بھی دل ہی دل میں کہا کہ چلو بھئی لگتا ہے پچھلے سال کی ساری نحوستیں ان دھوئیں کے مرغولوں میں اُڑا دی گئیں، مگر ذرا ٹھیر کر دل کے اندر جھانکا تو معلوم ہوا کہ باہر تو چراغاں ہے مگر اندر کے مٹیالے خانے میں وہی اندھیرا جما بیٹھا ہے جو پار سال تھا نئے سال کا جھومر ضرور لٹک گیا ہے، مگر ضمیر کی چھت اب بھی ٹپک رہی ہے یوں محسوس ہوا جیسے ہم نے کیلنڈر تو بدل لیا مگر خود کو بدلنے کی زحمت پھر آئندہ سال پر ڈال دی۔
وقت رکا نہیں کہیں، دھوپ ڈھلی تو دن کٹا
ہم نے تو عمر کاٹ دی، وقت کو کاٹتے ہوئے
مگر اس ہنگامے میں ایک نحیف سی آواز کہیں دب کر رہ گئی۔ وہ آواز تھی احتساب کی۔ بزرگوں نے تو ہمیشہ کہا ہے۔ حساب کتاب صاف ہو تو نیا کپڑا بھی جچتا ہے۔ مگر یہاں تو پرانے سال کا بوسیدہ حساب الماری میں بند کر کے اس پر نئے سال کا ریشمی غلاف چڑھا دیا گیا۔
ہمارا حال تو اب یہ ہے کہ رات گئی بات گئی۔ نئے سال کا سورج طلوع ہوتے ہی پچھلے سال کی غلطیوں پر ایسی مٹی ڈالی جیسے وہ کبھی تھیں ہی نہیں کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ گھڑی بھر کو بیٹھ کر یہ سوچتا کہ میاں پچھلے بارہ مہینوں میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ پٹاخے چلے شور ہوا دعوتیں ہوئیں کھچڑی پکی۔ مگر جو قلم ہاتھ میں تھا حساب کرنے کو۔ وہی قلم توہین ِ ادب میں بندھا پایا۔ کتنے وعدے تھے جو پورنیما کی چاندنی کی طرح دم توڑ گئے۔ سارا سال سوشل میڈیا کی چوسر پر انگلیاں گھستے گزار دیا جیسے وہیں سے کوئی قارون کا خزانہ نکلنا تھا۔ کتنوں کے دل اس زبان کی درازی سے چھلنی کیے اس کا حساب کون دے گا؟ سچ تو یہ ہے کہ ہم الٹی گنگا بہانے کے عادی ہو چکے ہیں احتساب کے نام پر تو نانی مرتی ہے اور جشن کے نام پر ہلدی لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے والا حساب ہے۔ اب حضرتِ انسان کا حال دیکھیے پچھلے سال جن برائیوں کو چھوڑنے کی قسمیں کھائی تھیں نئے سال کی پہلی تاریخ کو ہی ان کے ساتھ شیر و شکر ہو کر بیٹھے ہیں وہ جو کہتے ہیں نا کہ کتا کتے کا بیری یہاں تو ہم اپنی ہی عقل کے بیری بنے بیٹھے ہیں پٹاخوں کی آواز میں ضمیر کی آواز کو ایسا دبایا ہے کہ جیسے کسی نے کْھڈے میں مرغی بند کر دی ہو۔ سچ یہ ہے کہ جشن ہم نے ہمیشہ اجتماعی ذوق سے منایا ہے مگر احتساب کو انفرادی کمزوری سمجھ کر نظرانداز کیا ہے پٹاخے سب نے چلائے مگر اپنی غلطیوں کا بوجھ اٹھانے کا ہنڈولا کسی نے نہ ڈالا ہوائی فائرنگ نے آسمانوں کو تو چھلنی کر دیا مگر دل کے اندر جو زخم تھے ان پر کسی نے مرہم رکھنے کی زحمت نہ کی۔ ہم نے سال بدلنے کو زندگی بدلنے کا سرٹیفکیٹ سمجھ لیا ہے۔ وہی غصہ۔ وہی حسد۔ وہی وعدہ خلافی بس ان پر نیو ایئر اسپیشل کا اسٹیکر چپکا دیا آئینہ سامنے آئے تو نظریں چرا لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں۔
ابھی سال نیا ہے ابھی بہت وقت ہے حالانکہ یہی ٹال مٹول تو وہ قرض ہے جو سود سمیت لوٹ کر آتا ہے، قصہ مختصر یہ کہ ہم نے نئے سال کے استقبال میں آسمان تو سر پر اٹھا لیا مگر اپنے من کا بوجھ وہیں کا وہیں رہا یہ جو آدھی رات کو پٹاخوں کے غل غپاڑے سے نیند حرام کی گئی کاش! اتنی ہی تندہی سے پچھلے سال کے گناہوں کا کچا چٹھا بھی کھول لیا جاتا مگر صاحب ہم تو وہ ہیں کہ آنکھ موند کر رستہ چلیں اور ٹھوکر لگے تو تقدیر کو کوسیں۔ یاد رکھیے یہ ہوائی فائرنگ اور شورو غوغا محض ایک پردہ ہے جس کے پیچھے ہم اپنی ناکامیوں کو چھپاتے ہیں جب تک احتساب کی چھلنی سے خود کو نہیں گزاریں گے۔ یہ ہر آنے والا سال بس کیلنڈر کی ایک نئی قبا ہوگا، روح وہی پرانی اور بوسیدہ رہے گی۔ بزرگ کہہ گئے ہیں کہ منہ دھونے سے کہیں دل دھونا بہتر ہے اب یہ فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے کہ اگلے سال پھر یہی مٹی کے مادھو بن کر پٹاخے چھوڑنے ہیں یا اب کی بار واقعی اپنی کج رویوں کا ماتم کر کے ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے سچ تو یہی ہے۔
بدل گیا ہے فقط سال تم نہیں بدلے
وہی ہے رنگِ تپاک اور بے حسی کا خمار
چلتے چلتے بس اتنی ہی عرض ہے کہ ہوش کے ناخن لیجیے اس سے پہلے کہ وقت کا بے رحم ہاتھ آپ کے ہاتھ سے قلم چھین کر خود حساب لکھنے بیٹھ جائے۔ یاد رکھیے نیا سال اگر واقعی نیا ہو سکتا ہے تو صرف اسی صورت میں کہ پرانے حساب چکائے جائیں ورنہ یہی ہوگا کہ ہر سال نئے جشن منائیں گے اور ہر سال پرانی خطائیں نئے پٹاخوں کے شور میں دبا دیں گے، اور آخر میں وہی بات جو بزرگوں نے گرہ میں باندھنے کو دی تھی، جو اپنا حساب نہ کرے زمانہ اس کا حساب کر دیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہوائی فائرنگ پچھلے سال نئے سال سال کا
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔