Jasarat News:
2026-07-24@15:22:07 GMT

زحمت کی معذرت

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میں: آج تم کس زحمت کی معذرت کررہے ہو، ہمارے ہاں تو جگہ جگہ اسی طرح کے بینرز اور نوٹس بورڈ آویزاں نظر آتے ہیں۔ تعمیراتی کام جاری ہے، متبادل راستہ اختیار کریں، تکلیف کی معذرت وغیرہ وغیرہ۔۔۔

وہ: ویسے اگر انسان کے کسی عمل یا زبان سے نکلی کسی بات کی وجہ سے کسی دوسرے انسان کو کوئی ٹھیس پہنچے یا اُسے کوئی زحمت اُٹھانی پڑجائے تو معافی مانگ لینے سے انسان چھوٹا نہیں بڑا ہوجاتا ہے۔ وہ بزرگوں نے کہا ہے نا کہ جس پر زیادہ پھل لگے ہوتے ہیں پیڑ کی وہی ڈالی زیادہ جھکی ہوتی ہے۔

میں: لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فرد کو اپنی غلطی کا احساس ہو، وہ اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ مگر اب تو لگتا ہے کہ اپنی کرنی پر افسوس، پشیمانی اور معافی کی طلب جیسے گزرے زمانے کی بات ہوگئی۔ دنیا کی مختلف اقوام کو دیکھ لو امریکا نے جاپان کے شہروں ہروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کے جرم پر آج تک معافی نہیں مانگی جبکہ اس کے نتیجے میں معصوم جاپانی عوام کی ہلاکتیں اور تباہی تو ایک المیہ بن کر سامنے آئی تھیں لیکن اس کے بعد آنے والی کئی نسلوں اور ان کی صحت پر پڑنے والے مہلک اثرات کا عمل آج تک جاری ہے۔ روس نے پاکستان کے گرم پانیوں تک پہنچنے کے لیے افغانستان پر چڑھائی کی اور ایک آزاد وخود مختار ملک کا نقشہ بگاڑ دیا، ہے کوئی پشیمانی یا معذرتی بیان۔ امریکا نے مہلک ہتھیاروں کو ختم کرنے کے بہانے صدام حسین کی موت کے بعد عراق کومشق ِ ستم بناکر پورے ملک کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور تمام کوششوں کے باوجود کچھ نہ ملنے پرکھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق کچھ بیان دے کر معاملہ ختم ہوگیا، لیکن شرمندگی اور معافی کا ایک لفظ امریکا کی زبان سے نہیں نکلا۔

وہ: یہ سب تو ماضی ٔ قریب کی باتیں ہیں ذرا غور کرو کیا ان گورے انگریزوں نے گہری رنگت والے تنومند اور مظلوم افریقی نژادوں سے آج تک معافی مانگی ہے جو صدیوں تک ان کے ظلم وستم کا شکار رہے۔ گوری چمڑی والے انگریز، افریقی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح غلام بناکر لاتے رہے اور ان کی محنتوں کے بل پر یورپ اور امریکا میں ترقی کے مینار کھڑے کرتے رہے۔ شاید یہ فراعنہ ٔ مصر کے مظالم سے بھی زیادہ انسانوں کا سب سے بڑا استحصال تھا جس میں رنگ ونسل کے امتیاز کی بنیاد پر انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ پر فوقیت دی گئی۔ اس ظلم کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کرنے والے خود کو تعلیم آشنا، ترقی اور روشن خیال سوچ کا علم بردار اور تہذیب یافتہ کہتے رہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم ساری دنیا کے نوآبادیاتی طرزِ حکومت کو چھوڑ کر صرف اپنے برصغیر ہی کی بات کریں تو اس خطے کے لوگوں کو زبان، لباس اور طرز ِ معاشرت کی بنیاد پر احساس ِ کمتری میں مبتلا کرکے اپنی موٹروں اور مشینی صنعتوں کے لیے ایک ایسی پائیدار اور مستقل منڈی تلاش کرلی جو آج ان کو پہلے سے زیادہ نفع دے رہی ہے۔ انگریزوں نے برصغیر میں اپنے قیام کے دوران یہاں تہذیب کے نام پر جو بدتہذیبی اور ظلم روا رکھا اس کی تفصیل پھر کبھی۔ مگر کیا ان انگریزوں نے ۱۸۵۷ء میں جنگ آزادی کے مجاہدین کو توپوں کے دہانے پر رکھ کر اُڑانے کی آج تک معافی مانگی، جلیانوالہ باغ کے مظاہرین پر گولیوںکی بوچھاڑ کرکے سیکڑوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے پر کوئی معافی نامہ سامنے آیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب انگریز اس زمین پر قابض ہوئے برصغیر دنیا کا سب سے مالدار اور خوشحال خطہ تھا اور جب سن ۴۷ء میں یہاں سے گئے تو اس کی ساری دولت لوٹ کھسوٹنے کے بعد اسے دنیا کا سب سے بدحال اور غریب ترین خطہ بناکرگئے۔ بقول مصحفی ؔ

ہندوستاں میں دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی

کافر فرنگیوں نے بہ تدبیر چھین لی

ہے کوئی افسوس، ہے کوئی معذرت کہ ہم نے آپ کی ساری دولت، سارے خزانے لوٹ لیے، آپ کی تہذیب آپ سے چھین لی، لاکھوں انسانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا، آپ سب سے امیر تھے آپ کو سب سے غریب کردیا وغیرہ وغیرہ۔

میں: تم کیسی باتیں کررہے ہو، انگریز نے تو ایک سوچی سمجھی اسکیم اور ایک طے شدہ ایجنڈے کے تحت برصغیر کیا دنیا کے کم وبیش ہر خطے میں نوآبادیاتی نظام کے ذریعے ایک ایسے استحصالی معاشرے کی بنیاد رکھی جس کی ڈور پہلے دن ہی سے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں رہی۔ اب وہ سرمایہ دار کوئی صنعت کار ہو یا جاگیر دار۔ توپھر کیسی معافی کہاں کی معذرت۔

وہ: یہ تو خیر ذرا پرانی بات ہوئی ابھی حال ہی میں ختم ہونے والی غزہ جنگ میں اسرائیل نے بارہ سو شہریوں کی ہلاکتوں کا بدلہ 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت سے لیا جس میں 20 ہزار سے زائد معصوم بچے اور 28 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں اور نسل کشُی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسرائیل جیسے شیطان سے تو یہ توقع ہی فضول ہے کہ وہ اور کچھ نہیں تو کم از کم معصوم فلسطینی بچوں کی ہلاکتوں پر ہی شرمندگی کا اظہار کرلے یا اس کا سرپرست امریکا ہی اسے ایسا کرنے پہ مجبور کردے۔

میں: اپنی کوتاہی پر شرم ساری وندامت تو انسان کا وتیرہ ہے اور یہ دونوں تو برسوں سے شیطان کے نائب کی ذمے داری بحسن وخوبی ادا کررہے ہیں، یہ انسانوں کی طرح اپنے کیے پر کیسے معافی مانگیںگے۔ مجھے اس موقع پر ایک یونانی حکیم کا قول یاد آرہا ہے کہ انسان نشے کی حالت میں اکثر اپنے حواس کھو دیتا ہے اور اس کے اندرکی خباثت باہر نکل آتی ہے۔ اب وہ نشہ دختر ِ رز کا ہو یا طاقت واقتدار کا۔

وہ: خیر معافیاں تو بے شمار ہیں جن کو شرمندۂ اظہار ہونا چاہیے تھا اور اس میں صرف پرائے ہی نہیں کچھ اپنے بھی ہیں۔ 71ء کی جنگ میں ہمارے 90 ہزار فوجیوں نے بھارت کے آگے ہتھیار ڈال دیے، مفاد پرست سیاست دانوں کے ساتھ مل کر آدھا ملک گنوادیا، مگر آج تک قوم سے معافی کا ایک لفظ بھی نہ کسی سیاستدان کے منہ سے نکلا نہ کسی فوجی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے سے۔ کہ ہم سے بہت بڑی غلطی ہوئی، ہم شرمندہ ہیں، جنگ میں ہتھیار ڈالنا تو بزدلوں کا شیوہ ہے، ہمیں اپنی آخری سانس تک لڑنا چاہیے تھا، کلمہ طیبہ سے جڑے نظریۂ پاکستان کی حفاظت کرنی چاہیے تھی۔ مگر ہم نے اپنی انا اور مفاد کی خاطر ان محب وطن پاکستانیوں کو کھودیا جو اصل میں پاکستان کے قیام کا محرک تھے، قیام ِ پاکستان تو صرف اور صرف بنگال کے مسلمانوں کے ووٹوں کی بدولت ہی ممکن ہوا تھا۔ ہم نے آج تک ان محصورین ِ مشرقی پاکستان سے معافی مانگی جو صرف اور صرف پاکستان سے محبت کی سزا کاٹ رہے ہیں ان کے کیمپوں پر آج بھی پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ کسی سیاست دان کسی فوجی کو توفیق ہوئی کہ ان لاچاروں سے یہ جا کرکہتا کہ ہم آپ سے معافی چاہتے ہیں آپ نے پاکستان سے وفا کا حق ادا کیا ہے، آپ اور آپ کے بزرگوں نے صرف اس مٹی کی محبت میں اتنی مصیبتیں جھیلیں ہیں۔ اگر ہوسکے تو ہمیں معاف کردیں۔ خیر چھوڑو نہ مانگی جانے والی معافیاں اتنی ہیں کہ شمار کرنے بیٹھیں تو شاید صبح سے شام ہوجائے، مگر بات وہی ہے کہ پیسے کی ہوس اور طاقت کا نشہ انسانوں کی خباثت کو ظاہر کردیتا ہے، اس کے بعد سارے جتن صرف اس خباثت کو چھپانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ پھر بدن پر سوٹ ہو یا پیروں میں بوٹ انسان کی بے حسی اور بے ایمانی لاکھ چھپائے نہیں چھپتی۔

میں: ویسے اصل معافی اور استغفار تو ربّ کے حضور ہوتی ہے، جیسے اللہ کے رسولؐ دن میں ستر سے زائد دفعہ استغفار اور توبہ کیا کرتے تھے۔ اور آج انسان کو روز نہ سہی پوری زندگی فقط ایک بار ہی اللہ میاں سے معافی مانگنے اور توبہ کی توفیق ہوجائے تب بھی بندوں کے ساتھ کی گئی ظلم وزیادتی کی معافی کے لیے بندوں ہی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ بقول شاعرؔ

اب معافی طلب کریں ان سے

ٹھیرے مجرم جو وفاداری کے

کاش بن جاتا اپنا کام یہاں

جھوٹی موٹی سی اداکاری سے

 

شرَفِ عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: معافی مانگی کی معذرت سے معافی کا سب سے کے بعد کے لیے اور اس

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک