Jasarat News:
2026-07-24@06:31:16 GMT

افغان بارڈر بند ہونے سے پنجاب کو ماہانہ 80 ارب کا نقصان

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260103-06-10

 

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کا بارڈر بند ہونے سے پنجاب کو ماہانہ 80 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے اور صوبے کی سیمنٹ اور زرعی ادویات بنانے والی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی گئیں جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط منقطع ہیں اس صورت حال سے سرحدوں کی دونوں طرف ہزاروں تاجر بھی متاثر ہوئے ہیں ،ایک اندازے کے مطابق دونوں جانب تقریباً 3000 تاجر پھنسے ہوئے ہیں جن میں تقریباً 1200 پاکستانی اور 1800 افغان ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغانسان سے پاکستان آنے والے تازہ پھل اور خشک میوہ جات سمیت دیگر اشیا وہیں، خراب ہونے سے بڑا نقصان ہو رہا ہے، پاکستان سے سبزیاں، دیگر مصنوعات، تعمیراتی میٹریل یا ادویات بھی افغانستان نہیں بھیجی جا سکتیں ،دونوں ملکوں کے درمیان درآمد اور برآمد بند ہونے سے نہ صرف ملکی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ تاجر اور ٹرانسپورٹر بھی مشکلات کا شکار ہیں۔صدر لاہور چیمبرآف کامرس فہیم سہگل کے مطابق زرعی اور صنعتی شعبے کی برآمدات کا سب سے زیادہ دارومدار افغان بارڈر پر ہے کیوں کہ وہیں سے وسطی ایشیا کے دیگر ملکوں کو سامان برآمد کیا جاتا ہے لیکن تجارتی سرگرمیاں بند ہونے سے ملک پر معاشی دبائو برھتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں طرف آمدن میں کمی جب کہ مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے، دونوں ملکوں کے عوام اور سرمایہ کار پرشان ہیں لہٰذا دونوں ممالک کی حکومتوں کو چاہیے کہ بات چیت کے ذریعے تجارتی تعلقات فوری بحال کیے کریں۔فہیم سہگل کا کہنا تھا کہ ہماری برآمدات کا سب سے زیادہ انحصار ہمسایہ ممالک تجارت پر ہے ان ملکوں سے ہم درآمد کم اور برآمد زیادہ کرتے ہیں جس کا سالانہ حجم اڑھائی ارب ڈالر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکسٹائل، ادویات، تعمیراتی سامان انہی ممالک کو برآمد کرتے ہیں لہٰذا افغانستان کو سوچنا چاہیے کہ ہم نے ان کے لاکھوں شہریوں کو 40 سال تک سنبھالا اس لیے وہ تعلقات بحال کرنے کے لیے آگے بڑھے۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بند ہونے سے سے زیادہ

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ