الخدمت ،خدمات کے 50 ویں سال میں داخل ،منعم ظفرکا زبردست خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260103-06-26
کراچی(اسٹاف رپورٹر)الخدمت کراچی اپنی خدمات کے50ویں سال میں داخل ہوگئی ہے،اس سلسلے میں الخدمت کے مرکزی دفتر میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ،تقریب کے مہمان خصوصی امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان تھے ۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو الخدمت نوید علی بیگ ،سیکرٹری جماعت اسلامی حلقہ کراچی توفیق الدین صدیقی ،نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر واسع شاکر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی، مختلف پروگرامز کے ڈائریکٹرز،شعبہ جات کے سربراہان ،منیجرزاور کارکنا ن موجود تھے ۔ تقریب میں الخدمت کی خدمات کے 50ویں سال میں داخل ہونے کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور الخدمت کے ریویل لوگو Reveal Logo)) کی نقاب کشائی کی گئی ۔ا س موقع پر تقریب سے خطاب کر تے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ الخدمت نے 1976 میں جماعت اسلامی کی خدمت کمیٹی کے نام سے خدمت کا سفر شروع کیا ۔اس وقت لوگوں کی ضروریات و مسائل کے پیش نظر مٹھی بھر آٹااسکیم کا آغاز کیا گیا اوراس میں نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا ،نوجوان گھر گھر جا کر آٹاجمع کر تے اور اسے کنستر میں محفوظ کرتے اور پھر اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا تھا ۔منعم ظفرخان نے کہاکہ الخدمت نے ملک میں آنے والے زلزلوں اور سیلابوں میں بھی کام کیا، کورونا کی وبا اور طوفانی بارشوں کے دوران بھی عوام کی خدمت کی ۔الخدمت کے رضاکار ہر جگہ پہنچے اور ملک وقوم کی خدمت کی ۔آج الخدمت خدمت کا عنوان بن چکی ہے ،جہاں خدمت کانام آتا ہے وہاں الخدمت پہلے موجود ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کے وہ لوگ جنہوںنے اس کام کا 50 سال پہلے آغاز کیا اور آج ہم میں نہیں ،اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ٰ انہیں اجرعظیم عطا فرمائے ۔انہوں نے امید ظاہر کی الخدمت 50ویں سال بھی زیادہ نمایاں ہو کرکام کرے گی ۔امانت اور دیانت کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے معاشرے میں خوشیاں بانٹنے اور غم سمیٹنے میں معاون ثابت ہوگی ۔چیف ایگزیکٹو نوید علی بیگ نے کہاکہ مٹھی بھر آٹااسکیم کے بعد 1977میں خالق دینا ہال میں بانی جماعت اسلامی مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے 2 میت بسوں کا افتتاح کیا ،آج الخدمت کے پاس میت بسوں کا سب سے بڑا قافلہ ہے ،خدمت کا یہ سفر الحمد اللہ ملک بھر میں پھیل چکا ہے ۔ الخدمت کی خدمت کے سفر کے آغاز میں شروع ہونے والے کام آج وسعت اختیار کرچکے ہیں ،الحمد للہ آج الخدمت زندگی کے تمام شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہے اور یہ ہرروز کچھ نیا کرنے کے جذبے سے کام کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ بہت سے کام دیگر این جی اوز نے الخدمت کو دیکھ کر شروع کیے ،انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان شااللہ ہم 50ویں سال میں بھی بہترین خدمت کی مثال قائم کریں گے اور خدمت کے وہ کام بھی کریں گے جو آج سے پہلے ہم نے نہیں کیے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشدقریشی نے اس موقع پر تمام صدور الخدمت اور سیکرٹریز کے ناموں سے آگاہ کیا اور ان کی الخدمت کے لیے خدمات کی تعریف کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی الخدمت کے انہوں نے سال میں کی خدمت خدمت کے خدمت کا خدمت کی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔