اسلام آبادہائیکورٹ ، بغیر قانونی پراسس پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اغوا قرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260103-06-27
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بغیر قانونی پراسس کے پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا۔ پولیس کے اختیارات سے تجاوز کے اقدامات پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑا حکم جاری کرتے ہوئے پولیس کی بغیر قانونی پراسس گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر پراسس کا غلط استعمال ہو اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے تو طے شدہ اصول کے مطابق ایسی کارروائی کالعدم ہو جاتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے طے شدہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ہونے والی تمام کارروائی ختم ہونی چاہیے۔ عدالت نے یہ حکم لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے اغوا کے معاملے میں جاری کیا۔ یہ کیس سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ لین دین کے تنازع سے متعلق تھا۔ عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل اور ان کی اہلیہ ثنا سہیل کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے کیس کا 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ اہم فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریر کیا ہے۔عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کے خلاف پولیس کا مقدمہ خارج کر دیا۔ فیصلے میں ڈی آئی جی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ شوکاز نوٹس ملوث پولیس اہلکاروں کو جاری کیے جا چکے ہیں۔ تحریری فیصلے میں آئی جی اسلام آباد کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد عدالت نے
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔