سانحہ 9مئی،عمران خان کیخلاف11مقدمات کی آج سماعت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
راولپنڈی:
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سانحہ 9مئی کے11مقدمات کی سماعت آج ہفتہ 3جنوری کو ہوگی،تمام کیسوں میں چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی،چالان نقول کی وصولی کے لئے ملزم کے وکیل کو طلب کیا گیا ہے،جیل ٹرائل،ویڈیو لنک سماعت نہیں ہوگی۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید پیش ہوںگے،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی جیل روبکار پر حاضری لگائی جائے گی۔ان 11کیسوں میں جی ایچ کیو حملہ کیس،آرمی میوزیم پر حملہ،صدر میں سرکاری بلڈنگ جلانے،مری روڈ پر میٹرو سٹیشن جلانے،حساس ادارہ کے دفترمیں توڑ پھوڑ کے کیس شامل ہیں۔
شیریں مزاری،شبلی فراز،عمر ایوب وغیرہ سمیت30ملزمان میں چالان کی نقول ابھی تقسیم نہیں ہوئیں۔سماعت راولپنڈی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں ہوگی۔دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد شاہ نے علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد احتجاج کیس کی سماعت بغیر کارروائی5جنوری تک ملتوی کر دی،علیمہ خان کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظورکر لی گئی۔
غیر حاضر3ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے، عدالت نے حکم دیا تینوں ملزمان کوگرفتار کر کے پیش کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔