خیبر پختونخوا میں 2025 میں 3 ہزار 277 آپریشنز، 459 دہشتگرد ہلاک، رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پولیس کی کارروائیوں کے اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ 29 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو گرفتار کیا گیا، دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارودی مواد، دستی بم اور گولہ بارود برآمد ہوا جبکہ ایک ہزار 762 دہشت گردی کے مقدمات درج ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں پولیس کی جانب سے 2025 میں دہشت گردی کے خلاف کی گئی فیصلہ کن پیش رفت پر مبنی جامع رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق 3 ہزار 277 آپریشنز کیے گئے اور 459 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ شہید اہلکاروں کی تعداد 159 ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی جی پی ذوالفقار حمید کی قیادت میں 2025 میں 3 ہزار 277 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران ایک ہزار 300 سے زائد دہشت گرد گرفتار اور پولیس مقابلوں میں 459 دہشت گرد ہلاک ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ پولیس کی کارروائیوں کے اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ 29 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو گرفتار کیا گیا، دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارودی مواد، دستی بم اور گولہ بارود برآمد ہوا جبکہ ایک ہزار 762 دہشت گردی کے مقدمات درج ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس پر 536 حملوں کے باوجود فورس کی آپریشنل تیاری کے باعث شہدا کی تعداد 159 تک محدود رہی۔
خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 18 ہزار سے زائد سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز، 95 ہزار سے زائد اسنیپ چیکنگ پوائنٹس، 3 لاکھ گھروں کی چیکنگ، 30 ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی، بم ڈسپوزل اور K9 یونٹس کی مؤثر کارروائیاں، پولیس انفرا اسٹرکچر کی تعمیر نو، پشاور میگا سیف سٹی پراجیکٹ کی تکمیل کے آخری مراحل، کمیونٹی پولیسنگ، ڈی آر سیز کے ذریعے ہزاروں تنازعات کا حل، عوامی سہولت کے لیے نئی ایپس کا اجرا، ڈرائیونگ اسکولز کی بحالی اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود پر ایک ارب 21 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ آئی جی نے فورس کی شب و روز قربانیوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ 2026 میں بھی دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی اور خیبر پختونخوا پولیس امن و امان کے قیام کے لیے ہر محاذ پر سرگرم رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا بتایا گیا کہ پولیس کی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔