کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ، چلتے رکشا میں بیٹھی 17 سالہ لڑکی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کراچی:
کورنگی نمبر 6 میں چراغ ہوٹل کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران نامعلوم سمت سے آنے والی گولی نے چلتے رکشے میں بیٹھی 17 سالہ لڑکی کی جان لے لی۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والی لڑکی کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی، جس کی شناخت 17 سالہ کومل کے نام سے کی گئی۔ جاں بحق لڑکی فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی۔
اہلخانہ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کورنگی نمبر چھ کی مارکیٹ کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ کے دوران پیش آیا، مقتولہ اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ نانی کے گھر سے آرہی تھی۔
اہلخانہ نے بتایا کہ مبینہ پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ سے رکشہ ڈرائیور بھی باروز پر گولی لگنے سے زخمی ہوا لیکن زخمی رکشہ ڈرائیور کہاں گیا کچھ علم نہیں۔ والد کے مطابق مقتولہ کومل دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔
کورنگی نمبر چھ مارکیٹ میں مبینہ پولیس مقابلے کی ویڈیوز بھی حاصل کر لی گئیں۔
کراچی؛ ٹرالر کی زد میں آکر موٹر سائیکل چلانے والی خاتون جاں بحق
کراچی، سرجانی ٹاؤن میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ، ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی، مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں بچے سمیت دو افراد زخمی
پولیس کا دعویٰ ہے کہ مبینہ پولیس مقابلے میں مولا بخش نامی ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا جبکہ ساتھی فرار ہوگیا۔
ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری نے بتایا کہ عوامی کالونی تھانے کی حدود میں دو ڈاکو بینک سے رقم لیکر نکلنے والے شہری سے تین لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہو رہے تھے کہ کورنگی نمبر چھ مارکیٹ میں پولیس اور ڈاکوؤں کا آمنا سامنا ہوا۔ دوسرا ڈاکو لوٹی ہوئی رقم کے ساتھ فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگیا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ رکشے پر گولی چلتے ہوئے لگی لیکن مقتولہ طالبہ کو کس کی گولی لگی تعین نہیں ہو سکا، واقعے کی انکوائری تشکیل دے دی گئی اور ایس ڈی پی او لانڈھی فائزہ سوڈھر انکوائری کر رہی ہیں، جس میں ایس ایچ او لانڈھی اور ایس آئی او لاعوامی شامل ہیں۔
ایس ایس پی کورنگی، فدا حسین جانوری کا کہنا تھا کہ واقعے میں پولیس کی غفلت و لاپروائی ہوئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل مبینہ پولیس مقابلے کورنگی نمبر
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔