پاکستان تائیوان کو چین کا اٹوٹ انگ تصور کرتا ہے: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان نے آبنائے تائیوان میں حالیہ پیش رفت اور تائیوان سے متعلق سوالات پر چین کے مؤقف کی ایک بار پھر بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان چین کو اپنا آہنی دوست اور ہر موسم کا تذویراتی شراکت دار سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے بنیادی قومی مفادات سے متعلق تمام معاملات پر اپنی مستقل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جن میں تائیوان بھی شامل ہیوزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر مکمل طور پر کاربند ہے اور تائیوان کو چین کا اٹوٹ انگ تصور کرتا ہے، پاکستان مستقبل میں بھی اس اصول کی پاسداری جاری رکھے گا۔دفترخارجہ نے کہا ہے پاکستان یمن کے بحران کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے پرامن راستہ اختیار کرنے کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے شراکت داری، اخوت اور اتحاد کی اقدار کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کرتا ہے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔