Express News:
2026-06-02@22:08:09 GMT

2025ء افغان خواتین کیلیے بدترین سال رہا، بنیادی حقوق مکمل سلب

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

2025ء  افغان خواتین کے لیے ایک انتہائی تاریک اور دردناک سال ثابت ہوا ہے، جہاں افغان طالبان رجیم کے تحت انہیں بنیادی حقوق اور باوقار زندگی سے محروم کردیا گیا ہے۔

 افغان میڈیا آمو ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں افغانستان میں خواتین کے خلاف جاری ظلم و جبر، سخت پابندیوں اور شدید نفسیاتی دباؤ کو بے نقاب کیا ہے، جس کے مطابق خواتین کی تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں شمولیت پر عائد پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

آمو ٹی وی کے مطابق کابل اور دیگر صوبوں میں خواتین کو برقع پہننے پر مجبور کیا جا رہا ہے جب کہ ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر متعدد خواتین کو گرفتار بھی کیا گیا۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے۔ا سی طرح افغان یونیورسٹیوں سے خواتین اساتذہ اور ملازمین کو نکالا جا رہا ہے، جن میں ہرات یونیورسٹی سے 81 خواتین ملازمین کو برطرف کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

افغان میڈیا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان نے خواتین کو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں میں کام کرنے سے بھی روک دیا ہے، جس کے باعث انسانی امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں افغانستان میں خواتین تقریباً مکمل طور پر عوامی زندگی سے خارج ہو چکی ہیں، جس کا اعتراف خود افغان میڈیا میں کیا جا رہا ہے۔

افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق افغان خواتین نے سال 2025 کو اپنی زندگی کا بدترین اور سب سے زیادہ مایوس کن سال قرار دیا ہے۔ طالبان رجیم کے دور میں خواتین اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکرمندی کا شکار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی پابندیوں کے باعث کئی ادارے انہیں ملازمت دینے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر 10 میں سے 9 خواتین ملازمت، تعلیم اور ہنر کی تربیت سے محروم ہیں۔ رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ خواتین کی آواز دبانا، پرامن احتجاج کو جرم قرار دینا اور خوف کے ذریعے معاشرے کو خاموش کرانا افغان طالبان رجیم کا مستقل وتیرہ بن چکا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں خواتین کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی