پاکستان کے 96 فیصد گھرانوں کو موبائل یا اسمارٹ فون کی سہولت حاصل ہے: ادارہ شماریات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ سال 2024-2025 میں پاکستان میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان کے 96 فیصد گھرانوں کو موبائل یا اسمارٹ فون کی سہولت حاصل ہے اور ملک میں 70 فیصد سے زائد گھرانے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ادارہ شماریات نے بتایاکہ 2019 کے مقابلے میں انٹرنیٹ استعمال میں دوگنا سے زائد اضافہ ہواہے، خیبر پختونخوا ڈیجیٹل رسائی میں 77 فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے جہاں انفرادی سطح پر انٹرنیٹ استعمال 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 92 فیصد افراد موبائل فون استعمال کر رہے ہیں، شہری علاقوں میں خواتین کا انٹرنیٹ استعمال مردوں سے زیادہ ہے، خواتین اور مرد مجموعی طور پر انٹرنیٹ یکساں طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل آگاہی، آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل مہارتوں میں بہتری آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ استعمال ادارہ شماریات
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔