ملک کے مختلف حصوں میں دھند کا راج، موٹرویز بند، موسم خشک سرد رہنے کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں، جبکہ حدِ نگاہ کم ہونے کے باعث موٹرویز کے متعدد سیکشنز بند کر دیے گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے آئندہ تین روز کے دوران جنوبی اور وسطی پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں شدید دھند کے امکانات کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
موٹروے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شدید دھند کے باعث موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن، ایم تھری درخانہ سے فیض پور، ایم فور شیر شاہ سے پنڈی بھٹیاں اور ایم الیون لاہور مین ٹول پلازہ سے سمبڑیال تک ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ ملتان۔سکھر موٹروے ایم فائیو پر بھی ٹریفک معطل رہی۔
این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران لاہور، جھنگ، ملتان، خانیوال، میاں چنوں، ساہیوال اور دیگر وسطی و جنوبی پنجاب کے علاقوں میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔ بالائی سندھ خصوصاً سکھر اور گرد و نواح میں بھی دھند متوقع ہے، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں رات اور علی الصبح دھند پڑ سکتی ہے۔
ادھر مجموعی طور پر ملک کے بیشتر حصوں میں موسم خشک اور مستحکم رہنے کا امکان ہے، اسلام آباد اور راولپنڈی میں دن کے اوقات میں دھوپ برقرار رہے گی اور درجہ حرارت 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے، لاہور میں درجہ حرارت 7 سے 9 ڈگری، جبکہ ملتان میں 6 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، تاہم صبح کے وقت دھند کے باعث حدِ نگاہ متاثر ہو سکتی ہے۔
پشاور میں موسم نسبتاً معتدل رہے گا جہاں درجہ حرارت 7 سے 9 ڈگری کے درمیان رہنے کی پیش گوئی ہے، جبکہ کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح میں سردی کی شدت برقرار رہے گی اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے رہنے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان اور بالائی علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔
کراچی میں موسم بدستور گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے، جہاں درجہ حرارت 10 سے 12 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا، تاہم سمندری ہوائیں چلنے سے موسم خوشگوار رہے گا۔
محکمہ موسمیات اور موٹروے پولیس نے شہریوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دھند میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور حدِ رفتار کم رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رہنے کا امکان ہے دھند کے کے باعث رہنے کی رہے گا
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم