اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متعددبین الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متعددبین الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 January, 2026 سب نیوز
اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں متعدد بین الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں معطل کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی فلسطینیوں پر بربریت جاری ہے جہاں اب اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی متعدد بین الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں معطل کرنےکافیصلہ کیا ہے۔
اسرائیل کے اس فیصلے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں شدید سردی جاری ہے، بنیادی سہولیات کی کمی اور اسرائیلی پابندیوں کے باعث امدادی سامان کی آمد رک گئی ہے جس کی وجہ سے فلسطینیوں کی زندگیاں مزید مشکل بن گئی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسحاق ڈار کا سعودی وزیرخارجہ سے رابطہ، خطے میں تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات پر زور اسحاق ڈار کا سعودی وزیرخارجہ سے رابطہ، خطے میں تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات پر زور عالمی سطح پر چینی صدر کے نئے سال کے تہنیتی پیغام کی پزیرائی سی ڈی اے متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کو قانونی تحفظ مل گیا،صدر آصف زرداری نے سی ڈی اے ترمیمی بل 2025ء پر دستخط... جموں کشمیر ہاوسنگ سوسائٹی اور گلبرگ گرین کا انضمام کیوں ضروری، سی ڈی اے نے وضاحت و تفصیلی بریفنگ کیلئے فریقین کو 5 جنوری... فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی میں نمایاں بہتری، سال 2025 میں بھرتیوں کا ریکارڈ بہتر وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی کرنے کی منظوری دیدی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں معطل کرنے مقبوضہ فلسطینی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔