سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح، جاوید اختر اپنی ہی وائرل ویڈیو پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
بھارت کے معروف اسکرین رائٹر اور شاعر جاوید اختر نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بنائی گئی اپنی ویڈیو پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قانونی کارروائی پر غور شروع کردیا۔
سوشل میڈیا پر بھارت کے مسلمان شاعر جاوید اختر کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ان کے سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح اور کاندھے پر سرخ رنگ کا رومال موجود ہے۔
جاوید اختر کی یہ ویڈیو ان کے حالیہ مناظرے کے بعد سامنے آئی، لائیو ٹی وی پر ’خدا کے وجود‘ سے متعلق اس مناظرے میں مذہبی اسکالر اور وحیین فاؤنڈیشن کے بانی مفتی شمائل ندوی اور مصنف جاوید اختر آمنے سامنے تھے۔
A fake video is in circulation showing my fake computer generated picture with a topi on my head claiming that ultimately I have turned to God .
تاہم، اس مناظرے کے دوران جاوید اختر پر شدید تنقید کی گئی کیوں کہ وہ کسی بھی ایک سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور نہ ہی اس مناظرے میں کوئی واضح دلیل پیش کرسکے۔
یاد رہے کہ جاوید اختر مختلف پلیٹ فارمز پر کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ خدا اور کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ کی اپنی پوسٹ میں جاوید اختر نے ’اے ائی‘ سے بنائی گئی اس ویڈیو پر شدید تنقید کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ’خدا کی طرف مائل ہو گئے ہیں‘۔
Sir we love you sarre pic.twitter.com/Y4OajnXQg4
— •J• (@cjy) January 1, 2026سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو میں 80 سالہ جاوید اختر کی کمپیوٹر سے تیار کردہ تصویر دکھائی گئی ہے جس میں انہوں نے ٹوپی پہن رکھی ہے، ان کے ہاتھ میں تسبیح اور کاندھے پر سرخ رنگ کا رومال ہے۔
اپنی پوسٹ میں جاوید اختر کا کہنا تھا کہ ایک جعلی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں میری کمپیوٹر سے تیار کردہ جعلی تصویر دکھائی گئی ہے، سر پر ٹوپی ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بالآخر میں خدا کی طرف مائل ہو گیا ہوں۔ یہ سراسر بکواس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہا ہوں کہ اس معاملے کو پولیس کو رپورٹ کروں اور اس جعلی خبر کے ذمہ دار شخص اور اسے آگے پھیلانے والوں کو میری ساکھ اور اعتبار کو نقصان پہنچانے پر عدالت میں گھسیٹا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاوید اختر
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔