پاک فضائیہ کا مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاک فضائیہ نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تیمور ائیر لانچڈ کروز میزائل 600 کلومیٹر تک زمینی اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کم بلندی پر پرواز کی صلاحیت، دشمن کے ائیر اور میزائل ڈیفنس سسٹمزکو چکمہ دینے میں مؤثر ہے جب کہ تیمور کروز میزائل جدید نیوی گیشن اور گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے۔
آئی ایس پی آر کاکہنا ہےکہ تیمور میزائل کی کامیابی سے پاک فضائیہ کی روایتی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تیمور ویپن سسٹم علاقائی سکیورٹی ماحول میں پاکستان کے قابلِ اعتماد دفاع کو مضبوط بناتا ہے، تیمور میزائل کا کامیاب تجربہ قومی سلامتی کے اہداف کے حصول کی عکاسی کرتا ہے، یہ کامیابی قومی عزم اور تکنیکی خود کفالت کا ثبوت ہے۔
دبئی میں نئے سال کے آغاز پر تقریباً 58 ارب 80 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد کی پراپرٹیز فروخت
آئی ایس پی آر کے مطابق فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک افواج کے سینئر افسران اور سائنسدانوں نے کیا جب کہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سائنسدانوں اور انجنیئرز کو مبارکباد دی۔
دوسری جانب صدرِ مملکت نے پاک فضائیہ کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ مقامی سطح پر جدید ہتھیاروں کی تیاری قومی صلاحیت، عزم اور ادارہ جاتی مہارت کی واضح عکاس ہے، یہ کامیابی قومی دفاع میں خود انحصاری کے سفر میں ایک اہم پیشرفت ہے، دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج نے 15 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا؛ سرمایہ کاروں کی تعداد بلند ترین سطح پر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: تیمور ویپن سسٹم پاک فضائیہ
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔