بھارتی شہر اندور میں آلودہ پانی سے اموات پر راہل گاندھی کی تشویش، حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کانگریس لیڈر نے مدھیہ پردیش کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بدانتظامی کا مرکز بنتی جارہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر اندور میں آلودہ پانی پینے سے اموات اور درجنوں افراد کے بیمار پڑنے کے معاملے پر کانگریس کے سینیئر لیڈر اور پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اندور میں لوگوں کو پانی نہیں بلکہ زہر بانٹا گیا، جبکہ انتظامیہ گہری نیند میں مبتلا رہی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں گھر گھر ماتم کا ماحول ہے، غریب اور بے بس خاندان اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں، مگر اس کے باوجود حکمراں جماعت کے لیڈروں کے بیانات میں غرور اور بے حسی جھلکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن گھروں کے چولہے بجھ گئے، انہیں تسلی اور انصاف کی ضرورت تھی، لیکن حکومت نے ہمدردی کے بجائے تکبر پیش کیا۔
کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا کہ جب شہری بار بار گندے اور بدبودار پانی کی شکایت کر رہے تھے تو ان کی بات کیوں نہیں سنی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں کیسے شامل ہوگیا اور بروقت پانی کی سپلائی بند کیوں نہیں کی گئی۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ یہ عام سوالات نہیں بلکہ جوابدہی کا مطالبہ ہیں، جن کے جواب عوام کو ملنے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کوئی احسان نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق اور حقِ حیات کا لازمی حصہ ہے۔ ان کے مطابق اس حق کی پامالی کے لئے حکمراں جماعت بی جے پی کا ڈبل انجن نظام، لاپرواہ انتظامیہ اور غیر حساس قیادت پوری طرح ذمہ دار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی نااہلی نے اس سانحے کو جنم دیا، جس کی قیمت غریب شہریوں کو اپنی جانوں سے چکانی پڑی۔
راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بدانتظامی کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کہیں کھانسی کے شربت سے اموات ہوئیں، کہیں سرکاری اسپتالوں میں بچوں کی جانیں گئیں اور اب سیوریج ملا پانی پینے سے لوگ مر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہر واقعے میں غریب سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لیکن ملک کی اعلیٰ قیادت کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز