بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض رحمان کو انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) میں شامل کرنے پر بھارت میں شور مچ گیا ہے۔ شیو سینا سمیت حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل ٹیم میں شامل کرنے پر شاہ رُخ خان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کا اس حوالے سے بیان سامنے آیا جس میں بی سی سی آئی کے ایک عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی کہ بورڈ کو اس مسئلے پر حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

شیو سینا کے ترجمان آنند دوبے کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں بھارتی سرزمین پر کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستانی اور بنگلہ دیشی کھلاڑیوں پر پابندی ہونی چاہے۔

اس کے علاوہ بی جے پی رہنما سنگیت سوم نے بھی شاہ رُخ خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں شامل کر رہے ہیں، جس کا ملک انڈیا کے خلاف کام کر رہا ہے۔

اس معاملے پر بھارت کے سابق کرکٹر محمد کیف کا کہنا تھا کہ آئی پی ایل 2026 میں بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کی ممکنہ شرکت پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حساس معاملے میں حتمی اور درست فیصلہ کرنا بھارتی کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کی حالیہ نیلامی میں نو کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا گیا ہے۔ انہیں شاہ رُخ خان کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے اپنی ٹیم میں شامل کیا۔

بی بی سی کے مطابق گذشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شخص کی ہلاکت نے بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر دیا تھا۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر تعلقات خراب کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں، اور ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ہندو شہری ڈیپو چندرا کو ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا الزام عائد کرنے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے پر انڈیا کے ہندو انتہا پسند گروہوں نے بہت احتجاج کیا۔

بنگلہ دیش میں ہندو شخص کو اُس وقت ہلاک کیا گیا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں طالبعلم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد پُرتشدد مظاہرے کیے جا رہے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بنگلہ دیشی آئی پی ایل بنگلہ دیش ٹیم میں

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل