درآمدی بل کم کرنے کے لیے الیکٹرانکس ڈیوائسز پر لیوی عائد کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(اکامرس ڈیسل ) میڈ ان پاکستان پالیسی کے تحت موبائل فون سمیت تمام الیکٹرانکس ڈیوائسز اب پاکستان میں ہی بنیں گی۔ درآمدی بل کم کرنے کیلئے الیکٹرانکس ڈیوائسز پر لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔رپورٹ کے مطابق درآمدی بل گھٹانے کی حکومتی کوششیں کے تحت موبائل فونز، لیپ ٹاپس، سگنلز بوسٹرز۔ ڈونگلز اور بائیو میٹرک مشینوں سمیت الیکٹرانکس ڈیوائسز اب پاکستان میں بنیں گی۔میڈ ان پاکستان پالیسی کی تحت تیار الیکٹرانک اشیاء کی درآمد پر 5 فیصد تک لیوی لگانے اور خام مال پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دے دی گئی۔دستاویز کے مطابق کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، سگنل بوسٹرز، بائیومیٹرک، پی او ایس مشینیں، ٹریکرز سسٹم،اسمارٹ واچز اور ڈونگلز پاکستان میں بنیں گی، جس سے ڈیٹا محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کو کروڑ ڈالر کی بچت بھی ہوگی۔سالانہ 42 کروڑ 23 لاکھ ڈالر سے زائد کی الیکٹرانک ڈیوائسز درآمد ہوتی ہیں، ڈیوائسز کی مقامی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے امپورٹ پر لیوی لگانے کی تجویز ہے۔ پالیسی میں امپورٹڈ الیکٹرانک ڈیوائسز پر ایک سے 5 فیصد تک لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ ڈالر والی ڈیوائسز پر ایک فیصد اور 100 ڈالر قیمت والی پر 2 فیصد لیوی کی تجویز ہے۔دستاویز کے مطابق 300 ڈالر تک کی اشیا پر 3فیصد اور 500 ڈالر تک 5 فیصد لیوی لگانے کی تجویز ہے، 500 سے 700 ڈالر کی درآمدی ڈیوائس پر 5 فیصد لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔مقامی سطح پر ڈیوائسز کی تیاری کیلئے خام مال کی برآمد پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش کی گئی ہے، پالیسی سے حکومت کو 7 سال میں 104 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، 7 سال میں مقامی طور پر تیار ڈیوائسز کی قیمت بھی 70 فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔ الیکٹرانک اشیاء کی درآمد پر 5 فیصد تک لیوی لگانے اور خام مال پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دے دی گئی۔دستاویز کے مطابق کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، سگنل بوسٹرز، بائیومیٹرک، پی او ایس مشینیں، ٹریکرز سسٹم،اسمارٹ واچز اور ڈونگلز پاکستان میں بنیں گی، جس سے ڈیٹا محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کو کروڑ ڈالر کی بچت بھی ہوگی۔سالانہ 42 کروڑ 23 لاکھ ڈالر سے زائد کی الیکٹرانک ڈیوائسز درآمد ہوتی ہیں، ڈیوائسز کی مقامی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے امپورٹ پر لیوی لگانے کی تجویز ہے۔ پالیسی میں امپورٹڈ الیکٹرانک ڈیوائسز پر ایک سے 5 فیصد تک لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ ڈالر والی ڈیوائسز پر ایک فیصد اور 100 ڈالر قیمت والی پر 2 فیصد لیوی کی تجویز ہے۔دستاویز کے مطابق 300 ڈالر تک کی اشیا پر 3فیصد اور 500 ڈالر تک 5 فیصد لیوی لگانے کی تجویز ہے، 500 سے 700 ڈالر کی درآمدی ڈیوائس پر 5 فیصد لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔مقامی سطح پر ڈیوائسز کی تیاری کیلئے خام مال کی برآمد پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش کی گئی ہے، پالیسی سے حکومت کو 7 سال میں 104 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، 7 سال میں مقامی طور پر تیار ڈیوائسز کی قیمت بھی 70 فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الیکٹرانکس ڈیوائسز الیکٹرانک ڈیوائسز دستاویز کے مطابق ڈیوائسز پر ایک پر ٹیکس چھوٹ پاکستان میں ڈیوائسز کی فیصد لیوی پر 5 فیصد فیصد اور تیاری کی حکومت کو سال میں خام مال ڈالر کی ڈالر تک پر لیوی بنیں گی
پڑھیں:
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔